آپکے جسم کے 19 حیرت زدہ کر دینے والے راز

رب کائنات نے فرمایا کہ اُس نے انسان کو بہترین سانچے یعنی صورت میں پیدا کیا اور کوئی شک نہیں کہ انسان کو ملنے والا جسم رب کائنات کی ایک خُوبصورت ترین تخلیق ہے جسکے گہرے رازوں پر سے سائنس روز کوئی نیا پردہ اُٹھاتی ہے اور اُس پردے کے دُوسری طرف پہنچنے کے بعد اُسے پتہ چلتا ہے کہ آگے کئی پردے اور ہیں اور وہ ابھی بہت دُور ہے۔

اس آرٹیکل میں ہم انسانی جسم کے چند دلچسپ اور علم میں اضافہ کرنے والے حقائق کو شامل کر رہے ہیں جن کے بارے میں بہت سے لوگ پہلے نہیں جانتے اور جن کی معلومات آپ کی حیرتوں میں اضافہ کرے گی۔

آنکھ جھپکنا ایک لمحے کا سونا ہے

عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ آنکھ کا جھپکنا ایک ایسا عمل ہے جو آنکھوں کی نمی کو قائم رکھنے اور گردوغُبار وغیرہ کو آنکھوں میں پڑنے سے بچانے کے لیے متحرک ہوتا ہے یا آنکھ کی طرف اگر کوئی چیز بڑھ رہی ہو اور دماغ کو خطرہ ہو کہ یہ آنکھ میں داخل ہو سکتی ہے تب متحرک ہوتا ہے۔

درحقیقت آنکھ کا جھپکنا صرف انہیں چیزوں کے لیے نہیں ہے بلکہ اسکے اور بہت سے مقاصد ہیں اور ایک تحقیق کے مُطابق ہم ہر ایک منٹ میں کم از کم 15 سے 20 بار آنکھ جھپکتے ہیں اور اس سے ایک لمحے کا آرام ملتا ہے جس سے ہماری توجہ میں بہتری آتی ہے۔

بڑی آنکھیں دُور کی چیزوں کو دُھندلا دیکھتی ہیں

ہمارے ہاں بڑی آنکھوں کا ہونا حُسن اور خوبصورتی کی علامت سمجھا جاتا ہے مگر میڈیکل سائنس کا کہنا ہے کہ بڑی آنکھوں والے قریب کی چیزوں کو تو بہت زیادہ واضح دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں مگر اس دوران انہیں دُور کی چیزیں دُھندی دیکھائی دیتی ہیں اور ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ روشنی آنکھ کے بڑی ہونے کی وجہ سے آنکھ کے رتینا تک مناسب طریقے سے نہیں پہنچتی اور دُور کی چیزیں دُھندلی نظر آتی ہیں۔

بال بھی ذائقہ محسوس کر سکتے ہیں

امریکن ایسوسی ایشن آف ایڈوانس سائنس کی ویب سائٹ پر پبلش ہونے والے ایک آرٹیکل کی تحقیق کے مُطابق ہمارے ناک کے اندر اور پھیپڑوں کے راستے میں موجود بال کڑوا ذائقہ محسوس کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اگر کوئی کڑوی چیز وہ محسوس کرتے ہیں تو وہ اپنی حرکت میں تیزی لاتے ہیں تاکہ اُس کڑوی چیز کو باہر نکال سکیں۔

انسان اگر خود کو گُدگدی کرے تو اُسے محسوس نہیں ہوتی

یہ ایک عام مُشاہدے کی بات ہے کہ جسم کے کسی حصے پر جیسے بغل میں اگر کوئی ٹیکلینگ کرے تو جو احساس ہمیں ہوتا ہے وہ خود سے کرنے سے نہیں ہوتا اور اس کی وجہ سائنس کے مُطابق یہ ہے کہ گُدگدی کا احساس دماغ کے اندر جن حصوں پر محسوس ہوتا ہے خود سے گُدگدی کرنے کے دوران وہ حصے اتنے متحرک نہیں ہوتے اس لیے ہم گُدگدی محسوس نہیں کرپاتے۔

ہمارے بال فضا کی آلودگی کو صاف کرتے ہیں

بال اگر آئلی ہوگئے ہیں اور تھوڑے گندے ہیں تو یہ آپکی فضا میں موجود آلودگی کو زیادہ اچھے طریقے سے صاف کرتے ہیں اور ہوا میں موجود ڈسٹ وغیرہ کو اپنے اندر روک لیتے ہیں یعنی اگر آپ نے شیمپو نہیں کیا تو یہ چیز بھی آپ کو فائدہ دے رہی ہے۔

انسانی جسم سے روشنی نکلتی ہے

سائنس کی ایک تحقیق کے مُطابق انسانی جسم سے بھی روشنی خارج ہوتی ہے مگر یہ روشنی اتنی ہلکی ہے کہ انسانی آنکھ اسے دیکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔

معدے کی تیزابیت بلیڈ تک کو ہضم کر سکتی ہے

ہمارے معدے میں موجود گیسٹریک جُوس جو خوراک کو ہضم کرنے میں مدد دیتا ہے ریزر بلیڈ تک کو 24 گھنٹے میں 63 فیصد تک ہضم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے یعنی اتنا طاقتور ہے کہ میٹل کو بھی معدے میں ہضم کر جائے۔

چھینک 20 فٹ تک سفر کرتی ہے

چھینک آئے تو مُنہ پر ہاتھ یا کپڑا رکھنا بہت ضروری چیز ہے کیونکہ ایک تحقیق کے مُطابق چھینک 20 فٹ تک سفر کرتی ہے اگر اسے ڈھانپا نہ جائے اور اس دوران اگر چھینکنے والا کسی وائرل بیماری میں مُبتلا ہے تو اُس کے چھینکنے سے دُوسرے بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔

کان کی میل مُفید چیز ہے

عام طور پر ہم اپنے کان کی میل کو کاٹن بڈ وغیرہ سے صاف کر دیتے ہیں مگر ڈاکٹر حضرات کا کہنا ہے کہ ہمیں ایسا نہیں کرنا چاہیے کیونکہ کان کی میل ہمارے کان کے پردے کو آلودگی اور چھوٹے موٹے حشرات وغیرہ سے بچانے میں انتہائی مدد گار ہے اور ان چیزوں کو کان کے پردے تک پہنچنے سے پہلے اپنے اندر چمٹا لیتی ہے اور آگے نہیں بڑھنے دیتی۔

ذائقے کی حس عُمر کے بڑھنے کے ساتھ کم ہوتی جاتی ہے

جس طرح ہمارے نظر، طاقت، سُننے کی حس وغیرہ پر بڑھتی عُمر کے اثرات ہوتے ہیں اور یہ عمر کے بڑھنے سے کمزور ہوتی جاتی ہیں اسی طرح عمر کا بڑھنا ہمارے ذائقہ محسوس کرنے کی صلاحیت کو بھی کم کردیتا ہے۔

زُبان بھی انگوٹھے کی طرح اپنا پرنٹ رکھتی ہے

جی ہاں جس طرح آپکے انگوٹھے کا ایک علیحدہ پرنٹ ہے اور وہ دُنیا میں اور کسی سے نہیں ملتا اسی طرح آپکی زُبان کا بھی ایک پرنٹ ہے اور وہ بھی دُنیا میں اور کسی انسان سے نہیں ملتا یعنی یونیک ہے، اب سوچ میرے دوست خُدا ہے کہ نہیں ہے۔

ہاتھ کی سب سے چھوٹی انگلی میں آدھے ہاتھ کی طاقت ہوتی ہے

آپکو یہ بات حیران کرے گی مگر سائنس کا کہنا کے انسان ہاتھ کی سب سے چھوٹی اُنگلی میں آدھے ہاتھ کی طاقت ہوتی ہے یعنی اگر خُدانخواستہ یہ اُنگلی ضائع ہوجائے تو ہاتھ کے پکڑنے کی صلاحیت کو 50 فیصد تک فرق پڑتا ہے۔

انسان میں پانچ سے زیادہ محسوسات ہیں

عام طور سمجھا جاتا ہے کہ انسان کے پاس پانچ احساسات محسوس کرنے کی صلاحیت ہے جن میں سُننا، سونگھنا، ذائقہ محسوس کرنا، چھونا، دیکھنا وغیرہ شامل ہیں مگر یہ صرف پانچ نہیں ہیں بلکہ انسانی جسم گرمی سردی محسوس کرتا ہے، درد بھی محسوس کرتا ہے، بلینس بھی محسوس کرتا ہے اور خلا میں موجودگی کو بھی محسوس کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے وغیرہ وغیرہ اور ان احساسات کے ساتھ چھٹی حس اسے خطرات سے بھی آگاہ کرتی ہے اگر بیدار ہو تو۔

جسم کی سب سے چھوٹی ہڈی

انسانی جسم میں سب سے چھوٹی ہڈی کان میں ہوتی ہے جو آواز کو کان کے اندر لیجانے میں مدد کرتی ہے۔

بچے گرمیوں میں زیادہ تیزی سے بڑھتے ہیں

سائنس کی ایک تحقیق کے مُطابق بچوں کا قد سردیوں کی نسبت گرمیوں میں زیادہ تیزی سے بڑھتا ہے یعنی گرمیاں قد بڑھانے والے بچوں کے لیے زیادہ مُفید ثابت ہوتی ہیں۔

بچوں کے گھٹنوں پر کیپس نہیں ہوتیں

ہمیں لگتا ہے کہ گھٹنوں پر ٹوپیوں کا ہونا بڑا ضروری ہے مگر جب ہم پیدا ہوتے ہیں تو گھٹنوں پر یہ ٹوپیاں نہیں ہوتیں اور عُمر کے بڑھنے کے ساتھ وجود میں آتی ہیں۔

انسانی جگر دوبارہ بڑھ سکتا ہے

ڈاکٹرز حضرات کا کہنا ہے کہ جگر اگر 75 فیصد تک بھی چھوٹا ہوجائے تو یہ دوبارہ اپنا ٹھیک حجم پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اسی لیے جگر ٹرانسپلانٹ کے دوران سارا جگر نہیں بدلا جاتا بلکے جگر عطیہ کرنے والے کے جگر کا ایک چھوٹا ٹکڑا پیوند کر دیا جاتا ہے جو آہستہ آہستہ بڑا ہو جاتا ہے۔

پاؤں میں جسم کی 25 فیصد ہڈیاں ہوتی ہیں

انسانی پاؤں میں 52 ہڈیا ںہوتی ہیں یعنی پُورے جسم کی 25 فیصد اور ہر ہڈی میں 33 جوڑ ہوتے ہیں تاکہ یہ ہمارے سارے جسم کے وزن کو برداشت کرنے کیساتھ ساتھ ہمیں کھڑا ہونے اور چلنے پھرنے اور دوڑنے میں مضبوطی سے مدد کریں۔

صبح کے وقت ہمارا قد زیادہ لمبا ہوتا ہے

یہ ایک دلچسپ حقیقت ہے کہ ہم جب صبح کے وقت سو کر اُٹھتے ہیں تو ہمارا قد عام قد سے زیادہ لمبا ہوتا ہے اور رات کو سونے سے پہلے ہمارا قد عام قد سے چھوٹا ہوتا ہے اور اسکی وجہ سارا دن کام کرنے کے دوران ہمارے جوڑوں پر پڑنے والا پریشر ہے جو قد کو تھوڑا چھوٹا کر دیتا ہے اور رات کی نیند کے دوران یہ پریشر ختم ہوجاتا ہے جس سے صبح کے وقت قد لمبا ہوتا ہے۔