انسان کی پیدائش سے پہلے زمین پر رہنے والی مخلوقات

زمین پر انسان کی پیدائیش اللہ کی دوسری مخلوق کے لیے باعث تشویش تھی جن میں فرشتے اور ابلیس سر فہرست تھے اللہ یہ کہانی اپنی کتاب قرآن مجید میں خود سُناتا ہے۔

وَ إِذْ قالَ رَبُّکَ لِلْمَلائِکَةِ إِنِّي جاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَليفَةً اور جب آپکے رب نے فرشتوں سے کہا کہ وہ زمین میں اپنا خلیفہ بنائے گا۔
قالُوا أَ تَجْعَلُ فيها مَنْ يُفْسِدُ فيها وَ يَسْفِکُ الدِّماءَ وَ نَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِکَ وَ نُقَدِّسُ لَکَ ۔فرشتے بولے کیا تو اس میں اُس کو نائب بنانا چاہتا ہے جو اُس میں فساد کرے اور لڑائی اور کشت و خون کرتا پھرے، اور ہم تری تسبیح اور تقدیس کرتے ہیں۔
پھر حق نے انہیں وہ جواب دیا جسے سُن کر ہر فرمابردار خاموش ہوجاتا ہے۔
قالَ إِنِّي أَعْلَمُ ما لا تَعْلَمُونَ اللہ نے فرمایا جو میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے۔

انسان کی پیدائش سے پہلے اللہ کے فرشتوں کے ساتھ اس مقالمے سے اور پھر شیطان کے انسان کو سجدہ نہ کرنے پر دھتکارے جانے سے اس بات کاپتہ لگایا جا سکتا ہے کہ انسان کی پیدائش پر اللہ کی دوسری مخلوق کو جہا ں تشویش تھی وہاں وہ نہ خوش بھی تھی۔

انسان کی پیدائش سے پہلے زمین پر جنات Jinnکے علاوہ بھی کئی مخلوقات تھیں جن میں حنHinn، بنBinn، تمTimm ، رمRimm اور جن Jannشامل تھے .
علوی عقیدہ کے مطابق حن کا تعلق Circle of Time سے ہے جو زمین پر انسان کی پیدائش سے پہلے رہا کرتے تھے۔
اور Revelations of ʻAbdullah Al-Sayid Muhammad Habib کی دستاویز کے مطابق حن کو ہوا سے پیدا کیا گیا اور بن کو پانی سے پیدا کیا گیا اسی دستاویز کے مطابق یہ دونوں مخلوقات اب دنیا میں موجود نہیں لیکن جنات موجود ہیں۔

Image result for jinn
ابن خطیر کے مطابق حن اور جن اللہ کی وہ مخلوق ہے جس نے آدم کی پیدائش سے پہلے زمین پر خون خرابہ کیا اور اسی خون خرابے کو دیکھتے ہوئے فرشتوں نے اللہ کے انسان کو زمین پر اپنا خلیفہ بنانے کے ارادے پر احتجاج کیا کہ یہ بھی زمین پر لڑائی فساد کرے گا۔ ابن خطیر کے مطابق حن اور بن زمین پر جنات کے ہاتھوں مارے گئے تھے اور اب ان کو کوئی وجود نہیں۔

طبری کی روایات کے مطابق حن اور جن دونوں کو آگ سے پیدا کیا گیا حن کی پیدائش چلاچلاتی شدید آگ (نارالسموم) سے کی گئی اور عام جنات کو بغیر دھویں کی آگ (مارج من نار) سے پیدا کیا گیا۔
کچھ عرب کی روایات کے مطابق حن اب بھی موجود ہیں اور زمین پر کُتوں کی شکل میں رہتے ہیں یہ روایت بیان کرنے والے اس روایت کے ساتھ ایک حدیث کا حوالہ دیتے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ جب کوئی جنگلی کتا کسی مسلمان کا پیچھا کرے تو اُسے چاہیے کے اُسے کچھ کھانا ڈال دے اور بھگا دے کیوں کے ہو سکتا ہے کہ وہ شیطان ہو۔
اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔