تاریخ کے صفحات سے ایک خوبصورت مقالمہ  "چیزے است تُو نمی دانم”

مولانا روم کا پُورا نام جلال الدین محمد رومی تھا آپ کا لقب جلالالدین اور روم کے لوگ آپ کو مولانا روم کہتے تھے آپ 1208 میں بلخ میں پیدا ہوئے آپ کا شجرہ نصب ساتویں پیڑی پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ سے جا ملتا ہے۔
آپ اپنے درس و تدریس کے سلسلے میں دنیا کے بہت سے شہروں میں رہے اور پھر ارض روم کے سلجوقی فرمانروا علاوالدین زرکوب کی دعوت پر قونیہ چلے گئے جہاں سلطان نے ان کا  انتہائی جوش و جذبے اورخوش دلی سے خیر مقدم کیا اور شہر میں مولانا کے لیے ایک عالی شان رہائش گاہ وقف کر دی۔

مولانا روم نے قونیہ میں اپنی درس وتدریس کا سلسلہ شروع کیا آپ ایک جادوئی خطیب تھے لوگ آپ کا بیان سنتے اور پھر ہمیشہ کے لیے آپ کے گرویدہ اور مرید ہوجاتے، آپ کے پاس ہر وقت ہزاروں لوگوں کا ہجوم رہتا تھا جو مولانا کی معمولی سی خدمت کرنے کو بھی اپنے لیے باعث افتخار اور فخر سمجھتا تھا۔

زندگی کے دن اسی آب و تاب سے گزر رہے تھے شہر کے لوگوں نے آپ کو مولانا روم کا خطاب دے رکھا تھا اور آپ کی تعظیم میں ہر وقت کھڑے رہتے تھے اور پھر ایک دن ایک بظاہر نادان دیکھائی دینے والا غریب لباس آدمی آپ کی محفل میں آ بیٹھا۔

مولانا اپنے شاگردوں سے خطاب فرما رہے تھے اور ایک ایک جملے پر سننے والے بے اختیار داد دے رہے تھے سوائے غریب الباس کے، پھر وہ شخص اُٹھا اور مولانا کے سامنے پڑی ہوئی کتابوں کی طرف اشارہ کر کے مولانا کو مخاطب کیا اور وحشت میں پُوچھا ” یہ تیرے سامنے کس چیز کا ڈھیر ہے”
مولانا گفتگو کے اس انداز سے محرم نہ تھے لہذا ناگواری سے بولے ” چیزے است تو نمی دانم” یعنی یہ وہ چیز ہے جسے تو نہیں جانتا۔

غریب الباس مولانا کے قریب آیا اور کتابوں کی طرف اشارہ کیا اور پُوچھا کیا یہ وہ چیزیں ہیں جسے میں نہیں جانتا اور پھر آؤ دیکھا نہ تاؤ کتابوں کو اُٹھا کر مولانا کے پاس جلتے آلاؤ میں پھینک دیا ، نادر اور نایاب کتابوں کو جلتا دیکھ کر مولانا روم بے تاب و بے قرار ہوگئے اور اُس شخص سے بولے نادان تو نے یہ کیا کیا اتنی قیمتی کتابوں کو آگ لگا دی جن میں علم و حکمت کے موتی درج تھے۔

غریب الباس مولانا کو بے تاب ہوتے دیکھ کر بولا ” تمارے علم و حکمت کے موتی ان کتابوں میں درج تھے؟”
مولانا نے ناگواری سے کہا "تم نے جسے اپنی بیوقوفی سے آگ میں پھینک دیا”
یہ سن کر غریب الباس آدمی نے ایک آہ بھری اور پھر آگ میں ہاتھ ڈالا اور مولانا کی کتابوں کو آگ سے نکال کر ہاتھ سے جلتی آگ کو کتابوں سے ہٹا دیا دیکھنے والے حیرت زدہ رہ گئے کیوں کے آگ کتابوں سے ایسے ہٹ گئی جیسے کبھی لگی ہی نہ تھی پھر اُس شخص نے مولانا کو کتابیں دیکر کہا یہ لے لو اپنے علم وحکمت کےموتی جنہیں آگ لگ جاتی ہے جالانکہ آگ علم حکمت کے طابع ہوتی ہے۔

مولانا نے کتابیں لیکر دیکھا سب کتابیں بلکل ٹھیک تھیں اور آگ سے کسی کو نقصان نہیں پہنچا تھا مولانا نے غریب الباس سے پُوچھا "یہ کیا تھا اور تُم نے کیسے کیا؟”
غریب الباس بولا ” چیزے است تو نمی دانم” یہ وہ چیز ہے جسے تو نہیں جانتا۔

عقل مند آپ کو کسی کے گھر تک رہنمائی کرتے ہوئے دروازے تک تو لیکر جاسکتا ہے مگر گھر کے اندر نہیں(شمس تبریز)
یہ غریب الباس شخص شمس تبریز تھے جو فرقہ باطنیہ کے پیشوا کے بیٹے تھے اور اپنا آبائی مسلک ترک کرکے ایک بزرگ کمال جندی کے مرید بن گئے تھے اور طریقت اور سلوک کی وہ منزلیں طے کرچکے تھے جن سے مولانا روم ابھی نا آشنا تھے۔
ایک روایت ہے کہ حضرت شمس تبریز نے دُعا کی تھی کہ اللہ اُنہیں کسی ایسے شخص کی صحبت عطا کرے جو ان کی صحبت کا متحمل ہو پھر انہیں غیب سے اشارہ ملا کے آپ قونیہ چلے جائیں اور وہاں کے دل سوختہ جلال الدین محمد سے ملاقات کریں ۔

قونیہ میں شمس تبریز کی آمد کے بعد مولانا روم صلاح الدین زرکوب کے حجرے میں چلہ کش ہو گئے اور روایات ہیں کہ آپ 3 یا 6 ماہ چلہ کاٹتے رہے ، اس مدت میں مولانا نے کھانا پینا اور لوگوں سے ملاقات کرنا ترک کر دیا تھا اور صلاح الدین زرکوب کے سوا کسی کو مولانا سے ملنے کی اجازت نہیں تھی ۔
پھر خدا خدا کر کے 6 ماہ گُزرے اور مولانا کا چلہ ختم ہُوا ، قونیہ کے لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی وہ اپنے محبوب مولانا کو سُننا چاہتے تھے اُنکادیدار کرنا چاہتے تھے چنانچہ وہ دوڑے چلے آئے لیکن دوسرے طرف مولانا روم کی زندگی بدل چُکی تھی اب وہ مجمع باز نہین رہے تھے اُن پر آشکار ہوچکا تھا کے وصل کا پھل تنہائی میں ملتا ہے چنانچہ مولانا اپنا زیادہ وقت شمس تبریز کے ساتھ گُزارنے لگے جو قونیہ میں مولانا کے عاشقوں کے لیے قابل قبول نہیں تھا ۔
آپ اس بات کو ایسے سمجھیں جیسے اگر مولانا طارق جمیل صاحب کوبریلویوں کے مولانا الیاس صاحب اپنے ساتھ چار مہینے کے لیے لے جائیں اور واپسی پر مولانا طارق جمیل مولانا الیاس صاحب کے پاس ہی بیٹھ جائیں تو تبلیغی جماعت والوں کے دل پر کیا گُزرے گی۔
قونیا والے اپنے محبوب مولانا کو اپنے درمیان دیکھنے کے لیے بیتاب تھے چنانچہ انہوں نے شمس تبریز کی کھل کر مخالفت شروع کی بعض روایات میں ہے کہ قونیا میں سے کسی نے شمس تبریز پر خنجر سے وار کیا اور انہیں قتل کر دیا بعض روایا ت میں ہے کے شمس تبریز قونیا کے لوگوں کی مخالفت دیکھ کر خود ہی قونیا چھوڑ گئے اور پھر تاریخ میں کبھی شمس تبریز کا کوئی نشان نہ ملا۔

"الفاظ اگر دل سے نکلیں تو دل میں اُترتے ہیں اور اگر زبان سے نکلیں تو کان کے پردے پر ختم ہوجاتے ہیں (شمس تبریز)”
تُم کب شروع کرو گے؟ وہ آخری سفر جو تمہیں تمہاری ذات کے اندر لیکر جائے گا(مولانا روم)