تین عورتیں تین کہانیاں اور ایک کمینہ

لفظ اُردو پر تین عورتیں تین کہانیوں کے سلسلے کی یہ پہلی پوسٹ ہے جسے پڑھ کر آپ باغ باغ ہوجائیں گے، اس سلسلے کی پہلی کہانی لکھنو انڈیا کی ہے جہاں بچوں کو سکول میں اُردو نہیں پڑھائی جاتی اور بچے محلے کے مولوی صاحب سے اُردو پڑھتے ہیں۔

پہلی عورت پہلی کہانی

ایک انتہائی خوبصورت خاتون نے اپنے بیٹے کو اُردو سیکھنے کے لیے قریب کے مدرسے میں داخل کروایا، عورت کی خوبصورتی کے چرچے سارے محلے میں تھے لہذا اردو پڑھانے والے مولوی صاحب اس خاتون کے حُسن و جمال سے آشنا تھا اور مُلاقات کے شوقین تھے اور خاتون کے متعلق مزید جانکاری حاصل کرنا چاہتے تھے چنانچہ چھٹی کے وقت پر مولوی صاحب نے خاتون کے بیٹے سے کہا: اپنی امی جان کو میرا سلام کہنا .

بیٹے نے گھر واپس آکر ماں کو بتایا کہ مولوی صاحب نے آپ کو سلام بھیجا ہے
خاتون نے بیٹے سے کہا کل آپ مدرسے جاؤ تو مولوی صاحب سے کہنا امی وعلیکم السلام کہہ رہی تھی۔
۔پھر یہ سلسلہ ہفتہ بھر جاری رہا

ایک دن خاتون نے اپنےشوہر سے مشورہ کیا اوردوسرے دن بیٹے سے کہا کے مولوی صاحب سے کہیے گا کے امی نے آپ کو شام کو گھر پر بُلایا ہے۔
مولوی صاحب کہ تو جیسے نصیب ہی کھل گئے 3 دن سے نہائے نہیں تھے فوراً غسل کیا اور خوشبو لگائی اور آئنیے کے سامنے اچھی طرح بن سنور کر سر پر جناح کیپ پہنی اور چل دئیے خاتون کے گھر۔

خاتون نے مولوی صاحب کی آؤ بھگت کی چائے پلائی، بسکٹ کھلائے اور بیٹے کی تعلیم کے متعلق رسمی گفتگو کا آغاز کیا۔.
مولوی صاحب رسمی گفتگو کے بعد فوراً اصل مدعا پر آگئے اور فرمایا ماشاء اللہ، آپ کو خدا نے بڑی فرصت سے تراشا ہے اور میں آپ کے حُسن سے بہت متاثر ہُوں اس لیے چند لمحے گفتگو کے مُجھے بھی عنایت فرمائیں تو بچے کی تعلیم پر بہت مثبت اثرات مرتب ہوں گے”
خاتون بولی ” جی وہ تو ہے آب کی زرہ نوازی کا بہت شکریہ”
مولوی صاحب ” مجھے آپ سے دیوانگی کی حد تک عشق ہو گیا ہے محترمہ۔
خاتون "جی وہ تو ہے مولوی صاحب مگر اگر یہ باتیں میرے شوہر کو معلوم ہوئیں تو وہ بہت بُرے طریقے سے پیش آئے گا اس لیے آپ ابھی چلے جائیں میرے میاں آتے ہی ہوں گے لیکن کل ضرور تشریف لائیے گا پھر بات کریں گے۔
مولوی صاحب جانے کے لیے اُٹھے ہی تھے کہ اتنے میں باہر سے خاتون کے شوہر کی آوازسُنائی دی ، کون حرام خور گھر میں گھُسا ہے؟۔

مولوی صاحب خاتون کے میاں کی آواز سُن کر گھبرائے اور بولے مُجھے فوراً کہیں چُھپا دو
خاتون نے مولوی صاحب کو اپنی ساڑھی پہننے کو دی اور سر پر چادر دیکر مولوی صاحب کو گھر میں آٹا پیسنے والی پتھر کی ہاتھ والی چکی کے پاس بیٹھا دیا اوربولی ” آپ آہستہ آہستہ گندم پیسیں … میں انہیں چائے وغیرہ پلا کرباتوں میں لگاتی ہوں اور باہر بھیجنے کی کوشش کرتی ہوں آپ موقع دیکھ کر بھاگ جائیے گا ۔

.مولوی صاحب چارو ناچار عورت کے شوہر کے خوف سے لگے چکی پیسنے ، خاتون کا شوہر کمرے میں داخل ہُوا اور پوچھا کہ یہ کون خاتون ہے؟ ۔ بیوی نے بتایا پڑوس والوں کی مُلازمہ ہے آٹا پیسنے آئی ہے۔

پھر اس کے بعد دونوں میاں بیوی کمرے میں بیٹھ کر کافی دیر ہنسی مذاق کی باتیں کرتے رہے اور تقریبا ایک گھنٹے بعد شوہر نے بیوی سے کہا میں ذرا پان لیکر آتا ہوں تم اُتنی دیر کھانا پکا لو اور یہ کہہ کرباہر چلا گیا۔
اُدھر ایک گھنٹے سے چکی پیستے مولوی صاحب نے جھٹ ساڑھی اُتار کر پھینکی اور پلک جھپکنے میں وہاں سے بھاگے کہ کہیں میاں واپس نہ آجائے۔

دس دن بعد خاتون کے بیٹے نے مولوی صاحب سے سبق پڑھنے کے بعد کہا ” امی جان نے آپ کو سلام بھیجا ہے”
مولوی صاحب غصے سے بولے” حرام خورو ایک من آٹا دس دن میں کھا گئے؟ جو امی جان نے پھر سلام بھیجا ہے”

دوسری عورت دوسری کہانی

ایک شخص بستر مرگ پر پڑا اپنے آخری وقت کا منتظر تھا۔ اس کی باوفا بیوی اپنے محبوب شوہر کے پاس موم بتی لئے بیٹھی تھی۔اس نے فرط جذبات سے شوہر کا نحیف ہاتھ تھاما تو آنسو اس کے گالوں پر بہہ نکلے۔اس کی مدہم دعاؤں نے اسے ایک لمحے کو جگا دیا۔ اس کے پپڑی جمے زرد لب تھرتھرائے۔
"ڈارلنگ! اس آخری وقت میں، میں کچھ کہنا چاہتا ہوں۔۔۔” اس نے اٹک اٹک کے بمشکل کہا۔
"نہیں ہنی تم بس آرام کرو۔۔۔” اس نے شدتِ غم سے اپنے ہونٹ دانتوں میں دبا لئے۔

"خدا کے لئے سن لو۔ ورنہ میری روح بےچین رہے گی۔ میں تم سے بے وفائی کرتا رہاہوں۔ تمہاری چھوٹی بہن، اس کی سہیلی، اس کی سہیلی کی سہیلی اور۔۔۔”
بیوی نے ہچکیاں لیتے ہوئے اپنی نازک ہتھیلی اس کے ہونٹوں پر رکھ دی اور بولی::
"میں جانتی تھی ڈارلنگ۔۔۔
تم پریشان نہ ہو۔۔۔میں نے اسی لئے تمہیں زہر دیا ہے۔

تیسری عورت تیسری کہانی

آفس کے بزی شیڈول اور تھکاوٹ کے بعد ایک خاتون میٹرو بس میں سوار ہوئی، اور اپنی سیٹ پر بیٹھ کر دن بھر کی ٹھکاوٹ اتارنے کی کوشش شروع کی اتنے میں ایک صاحب جو کہ خاتون سے اگلی سیٹ پر بیٹھے تھے انہوں نے اپنا موبائل نکالا اور زور زور سے باتیں کرنے لگے۔اُن صاحب کی موبائل پر گفتگو کچھ اس طرح تھی۔

جان میں شفیق بول رہا ہوں ، میٹرو میں بیٹھ گیا ہوں
ہاں ہاں مجھے پتہ ہے کہ اب سات بجے ہیں پانچ نہیں،
میں میٹنگ میں مصروف ہو گیا تھا لہذا دیر ہو گئی.
"نہیں جان، "میں شبنم کے ساتھ نہیں تھا، میں تو باس کے ساتھ میٹنگ میں تھا”

"نہیں جان، صرف تم ہی میری زندگی میں ہو”
"ہاں قسم سے”
پندرہ منٹ بعد بھی جب چھینہ صاحب زور زور سے گفتگو جاری کئے ہوئے تھے،
تب وہ خاتون جو پریشان ہو چکی تھی فون کے پاس جا کر زور سے بولی …

” شفیق ” ڈارلنگ فون بند کروبہت ہو چکا اب تمہاری شبنم اور انتظار نہیں کر سکتی ۔
اب شفیق صاحب ہسپتال سے واپس آ چکے ہیں اور انہوں نے پبلک پلیسز پر موبائل کا استعمال مکمل طور پر بند کر دیا ہے۔۔