جنگل میں جمہوریت 

آپکو تو معلوم ہے کہ جنگل میں شیر کا راج ہوتا ہے۔ اور جنگل کے بھی کچھ قاعدے قانون ہوتے ہیں۔وہاں مختلف قسم کے جانور پاۓ جاتے ہیں جن کو مختلف حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔شیر چیتے لگڑ بھگے کتے اور بہت سے اور خون خوار جانور ہیں جو گوشت کھاتے ہیں ۔ہاتھی ہیں مگر مچھ ہیں اس کے علاوہ ہرن بھینسے زیبرے بندر لومڑ اور نہ جانے کتنی اقسام ہیں جو جنگل کی مخلوق ہیں۔

اس واقعہ میں ذکر ایک ایسے جنگل کا ہے جہاں جانور بھی جمہوریت سے متاثرجنگل میں جمہوری راج کا قیام عمل میں لایا گیا۔چونکہ شیر جنگل کا بادشاہ ہے اور تمام دیگر جانور اس کے گرویدہ ہیں اس لیےجملہ تمام امور جن کو آپ آیئن کہ سکتے ہیں ترتیب دیکر شیر کے حضورمنظوری کے لۓ پیش کیا گیا جو شیر نے بصد خوشی قبول کر کےاس کو نافذ کر نے کا حکم جاری کر دیا۔

خون خوار اور دیگر  طاقت میں یکتا جانوروں کو ان کی استطاعت کے مطابق عہدوں سے نوازا گیا۔ باقی کو جو شیر اور اس کے حواریوں کے لۓ لقمہ تر تھے عوام کا درجہ دیا گیا۔یہ بھی قرار پایا کہ طاقت کا منبہ عوام ہوں گے اور ان کو ووٹ کا حق دے کر اقتدار میںشامل کر لیا گیا۔ ۔ یہ اسی جنگل کا واقعہ ہے جہاں منصف کا کردار بندر کے سپرد تھا یعنی بندر جنگل کے چیف جسٹس کے عہدے پر سوار تھا،

دروغ  بگردن راوی۔

قصہ گو بیان کرتا ہے کہ دو بلیوں نے مل کر ایک روٹی پکائ۔ روٹی تیارہونے پر انہوں نے آدھی آدھی بانٹنے کا فیصلہ کیا۔اس کار خیر کے لۓ بڑی بلی نے اپنی خدمات پیش کیں جو  چھوٹی  بلی نے بڑی بلی کے بڑاہونے کے ناطے مان لیں۔

آخر اخلاقیات بھی کوئ چیز ہے۔ بہر حال بڑی بلی نے روٹی کو دو حصوں میں تقسیم کیا اور خود ہیبڑے ٹکڑے کا انتخاب   اپنے لۓ کر لیا۔ چھوٹی بلی نے احتجاج کیا۔ جھگڑا بڑھ گیا۔ چھوٹی بلی  نے اپنے حق کے حصول کے لۓ  عدالت کا رخ کیا جہاں منصف کے عہدہ پر بندربحکم جنگل کے بادشاہ براجماں تھا.

۔ ببلی نے بندر کے حضور انصاف کے لیے میاون میاوں کی بندر نے صورتحال دیکھ کرایکترازو منگوایا  روٹی کے دونوں ٹکڑوں کو علیحدہ علیحدہ پلڑوں میں رکھا۔بڑے ٹکڑے والہ پلڑا جھک گیا۔ بندر نے اس  میں سے کچھ ٹکڑا علیحدہ کیا اور خود  کھا لیاجس کے نتیجے میں دوسری طرف والہ پلڑا جھک گیا۔
مجبوراً بندر  نے ادھر سے ایک ٹکڑا علیحدہ کیا اور کھا لیا۔
قصہ مختصر تین چار دفعہ یہ عمل دہرانے کے بعد تمام روٹی بندر کے پیٹ میں چلی گئی۔

بندر نے معاملے کی نزاکت کو دیکھ کر بلیوں کو 6 مہینے بعد کی تارئخ دے دی اور عدالت برخاست کر کےدرخت پر چھلانگ مار کر ٹہنی سے لٹکتا ہوا جنگل میں نکل گیا۔

(عبدالرشید مرزا)