جہاں عدل نہ ہو وہ معاشرہ تباہ ہو جائے گا

انگریز کا سیاسی طرز حکمرانی یہ تھا کہ لوگوں کی زندگی کو اس طرح الجھا دو کہ وہ حکمرانوں کے متعلق سوچ ہی نہ پائیں ۔ان کے گرد مسائل کا ایسا جال پھیلا دو کہ انھیں سیاستدانوں کی دھلیز کے آگے جھکنے پر مجبور کر دے۔ کچہری اور تھانوں کا ایسا نظام تشکیلدیا جاۓ جہاں ان کی مدد کے بغیر انکاکوئی کام ممکن نہ ہو سکے۔انگریز کا بنایا ہوا یہ نظام پاکستان میں من و عن رائج ہے۔آۓ ہم اس
نظام کی ایک چھوٹی سی جھلک جو پاکستان کی عدالتوں میں رائج ہے کی تصویر دیکھتے ہیں ۔

ہمارے ملک کا یہ فرسودہ عدالتی نظا م اس قدر پیچیدہ ہے کہ انصاف کا حصول ایک خواب بن گیا ہے۔ اگر آپکے خلاف کوئی مقدمہ بن جاۓ یا آپ انصاف کے حصول کے لۓ عدالت کا رخ کر لیں تو وکیل اور جج صاحبان آپ کو تاریخوں کے چکر میں ایسا ڈالتے ہیں اور اس طرح آپکی جیب کا صفایا کر تے ہیں کہ غریب آدمی بلبلا اٹھتا ہے۔ کیا ہم نے یہ ملک اس لۓ بنایا تھا کہ انصاف کے نام پر ہماری جیب تراشی کی جاۓ۔ کیا جج صاحبان اس بات کی تنخواہ لیتے ھیں کہ غریب عوام کی خون پسینے کی کمائی
آۓ روز ان کے روبرو پیش ہو کر ذلیلوخوار بھی ہوں ۔

کیا آئین میں یہ درج ہے کہ سالوں انصاف کے حصول کے لۓ آنیوالوں کو در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور کیا جاۓ۔آیئن کا تقاضا تو یہ ہے کہ بلا تفریق امیرو غریب جلد از جلد انصاف فراہم کیا جاۓ ۔ تاریخوں پر جو لوگ آتے ہیں ان کا وقت اور سرمایا قوم کا زبردست نقصان نہیں ہے۔ کیا اس ملک میں رشوت کے بغیر انصاف کاحصول ممکن ہے؟ اگر نہیں ہے اور یقینن نہیں ہے تو پھر خدا کے عذاب کے لۓ تیار رہو۔ کچھ دیر ضرور ہو سکتی ہے مگر یہ اٹل فیصلہ ہے کہ ظلم کا نظام تو چل سکتا ہے مگر جہاں عدل نہ ہو وہ معاشرہ تباہ ہو کر رہے گا۔

پاکستان کی کچہریوں میں روزانہ لاکھوں لوگ انصاف کے حصول کے لۓ کرایہ خرچ کر کے آتے ہیں۔ پھر وکیلوں کی فیسوں کے علاوہ رشوت اور دیگر اخراجات پر لوگوں کی جیب سے کروڑوں روپیہ ادھر سے ادھر چلا جاتا ہےاور پھر تاریخ ڈال دی جاتی ہے کہ جاؤ کام کروانا ہے تو اور پیسہ لے کر آؤ۔یوں لوگ اپنی سب جمع پونجی گنوا کر بھی انصاف نہیں حاصل کر پاتے۔ یہ ہے وہ قانون اور آیئن جو ہماری اسمبلیوں میں موجود ہمارے حاکم جو ہم سے ووٹ لیکر آتے ہیں ہمارے لۓ بناتے ہیں ۔

اگر پاکستان کی عدالتوں میں موجود مقدمات کا جائزہ لیں تو سالوں سے زیر التوا مقدمات ایسے ہیں کہ ان کا فیصلہ صرف ایک یا زیادہ سے زیادہ دو یا تین پیشؤں میں ہو سکتا ہے۔ اگر انصاف کرنا ہو تب۔ مگر یہاں تو انصاف گرنا مقصد ہی نہیں ہے۔ یہاں مقصد صرف اور صرف لوگوں کو الجھاۓ رکھنا ہے تا کہ عوام کا دھیان اپنے مسائل پہ لگا رہے اور یہ اپنی من نانیاں اور لوٹ کھسوٹ میں لگے رہیں اور کوئی ان کی طرف دھیان نہ کر سکے۔ یہ جج صاحبان کو لمبی لمبی تنخواہیں اس لۓ نہیں دی جاتیں کہ یہ
تاریخیں ڈالیں اور لوگوں کو پریشا ن کریں ۔

اگر یہ اپنا کام نہیں کرتے تو یہ خود فیصلہ کر لیں کہ جو تنخواہ لیتے ہیں وہ حرام ہے یا حلال ہے۔ مگر یہاں کس کو خدا کے حضور حاضری کی فکر ہے۔ ایک دن جو مقرر ہے سب کو مر کر اپنا اپنا حساب دینا ہے۔ اور یہی سچ ہے۔خدا کے لۓ ایسے ممبران اسمبلی کا انتخاب کریں جو اس نظام کو تبدیل کریں اور اس جماعت کو ووٹ دیں جو اس نظام کو جو انصاف کے راہ کی سب سی بڑی رکاوٹ ہے کو تبدیل کرے۔ ورنہ یاد رکھیں کہ یہ حکمران جو چوری کرتے ہیں اور ملک کو لوٹتے ہیں اپنے بعد اپنی اولادوں کو عوام کا خون چوسنے کے لۓ لے آۓ گیں اور پھر آپ کے بعد وہ ان کی غلامی کریں گی۔ستر سال سے یہ جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کا ٹولہ عوام کو بیوقوف بنا رہا ہے۔

ہر بار یہ لوگوں سے جلد اور سستے انصاف کا وعدہ کر کے ووٹ لیتا ہے مگر اسمبلی میں جا کر لوٹ مار کرتا ہے اور اس نظام کو تبدیل کرنے کی سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتا ہے۔وہ لوگ جو کثیر سرمایہ خرچ گر گے اسمبلیوں میں جاتے ہیں ان کو کسی پاگل کتے نے نہیں کاٹا ہے کہ وہ یوں اپنی دولت لٹاتے پھریں وہ یہ سب خرچ اس لۓ کرتے ہیں کہ مزید مال بنا سکیں ۔یہ قوم کے خادم نہیں چور ڈاکو اور لٹیرے ہیں۔جب تک یہ حکمران رہیں گے انصاف نہیں مل سکے گا۔اگر چاہتے ہو کہ انصاف ملے تو اس نظام -کو بدلو جو انصاف کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
(عبدالرشید مرزا)