حیرت انگیز کھیوڑا سالٹ مائن جہاں نمک سکندر اعظم کےگھوڑوں نے دریافت کیا

سر زمین پاکستان کو رب کائنات نے معدنی ذخائر سے مالا مال فرمایا ہے اور ان ہی معدنی ذخائر میں ایک نمک ہے جسکے پاکستان میں ذخائر دُنیا کے دُوسرے بڑے ترین نمک کےذخائر میں شامل ہوتے ہیں اور ان ذخائر میں پنک سالٹ جسے ہمالین سالٹ بھی کہا جاتا ہے شامل ہے۔

پاکستان میں نمک کی سب سے بڑی کان کھیوڑا، پنجاب میں واقع ہے اور اس نمک کی کان کی کہانی انتہائی دلچسپ ہے کیونکہ اسے کسی انسان نے نہیں بلکہ گھوڑوں نے دریافت کیا۔

کہا جاتا ہے کہ کھیوڑا سالٹ مائن کی تاریخ تقریباً 326 قبل مسیح پُرانی ہے اور سکندر اعظم نے اس علاقے سے گُزرتے ہُوئے یہاں دریائے جہلم کے کنارے راجہ پورس کی فوج کو شکست دی اور اس علاقے میں پڑاؤ کے دوران سکندر اعظم کی فوج نے دیکھا کے اُن کے چند بیمارگھوڑے یہاں کے پتھروں کو چاٹ رہے ہیں اور پھر اُنہوں نے نوٹ کیا کے پتھر چاٹنے کے بعد گھوڑے صحت مند ہوگئے ہیں، مزید تحقیق پر اُنہیں پتہ چلا کہ یہ چمتکار ان پتھروں میں شامل نمک کی بڑی مقدار کی وجہ سے ہے اور یہ علاقہ نمک کے بڑے ذخائر سے مالا مال ہے۔

اس آرٹیکل میں ہم کھیوڑا مائن کے چند دلچسپ حقائق کو شامل کر رہے ہیں جنہیں پڑھ کر آپ کی معلومات میں اضافہ ہو گا اور اگر آپ نے اس مائن کو وزٹ نہیں کیا تو آپ کے اندر دُنیا کی اس دُوسری بڑی ترین حیرت انگیز سالٹ مائن کو دیکھنے کو خواہش بیدار ہو گی۔

File:Visit To Hari Pur, Khewra And Kallar Kahar (71).JPG
Aadeel31 / CC BY-SA

کھیوڑا سالٹ مائن کے اندر لیجانے والی سُرنگ تقریباً 40 کلومیٹر تک لمبی ہے اور زمین کے اندر انتہائی گہرائی تک لیکر جاتی ہے اور اس سُرنگ کا کُچھ حصہ عام سیاحوں کے لیے کُھلا ہے جسے آپ صبح 9 بجے سے شام 6 بجے تک سارا ہفتہ اور بروز اتوار صبح ساڑھے سات سے شام چھ بجے تک وزٹ کر سکتے ہیں۔

G:\Pics Sharing\IMG_3258.JPG

ایک اندازے کے مُطابق نمک کی اس کان میں 82 ملین ٹن سے لیکر 600 ملین ٹن نمک موجود ہے اور اس میں سے سالانہ تقریباً 3.5 لاکھ ٹن نمک نکالا جارہا ہے اور نمک نکالنے کے دوران کان کے اندر پچاس فیصد نمک نکالا جاتا ہے اور پچاس فیصد پلرز کی صُورت میں چھوڑ دیا جاتا ہے تاکہ کان کی مضبوطی قائم رہے۔

نمک کی اس کان کے اندر ایک چھوٹا سا سانس کی بیماری استھما کا ہسپتال قائم ہے جہاں مریضوں کو روزانہ10 دن تک 8 سے 10 گھنٹے رکھا جاتا ہے جس سے اُن کو استھما کی بیماری میں بہت فائدہ ملتا ہے۔

File:Himalayan salt of Saúde flea market, São Paulo, Brazil.jpg
Wilfredor / CC BY-SA

کھیوڑہ سالٹ مائن میں 82 میٹرک ٹن پنک ہمالین سالٹ کے ذخائر ہیں اور یہ نمک اپنے اندر بیشمار منرلز رکھنے کے باعث صحت کے لیے انتہائی مُفید نمک مانا جاتا ہے اور پنک سالٹ کے یہ دُنیا کے سب سے بڑے ذخائر میں شامل ہوتا ہے۔

نمک کی اس کان سے نکالا جانے والا نمک 70 فیصد انڈسٹریز میں استعمال ہوتا ہے اور 30 فیصد نمک کھانے کے کام آتا ہے اور اسے ساری دُنیا میں ایکسپورٹ کیا جاتا ہے۔

سردی ہو یا گرمی کان کے اندر موسم کے بدلنے سے فرق نہیں پڑتا اور کان کے اندر سارا سال درجہ حرارت 18 ڈگری قائم رہتا ہے جو کان کے اندر کام کرنے والوں اور سیاحوں کو گرمی اور سردی محسوس نہیں ہونے دیتا۔

https://upload.wikimedia.org/wikipedia/commons/thumb/1/11/SaltMosque.JPG/1024px-SaltMosque.JPG
Dawoodmajoka / Public domain

سالٹ مائن کے اندر جانے والے سیاحوں کے لیے مائن کو خُوبصورت روشنیوں اور نمک سے بنے مختلف ماڈلز سے سجایا گیا ہے اور مائن کے اندر نمک سے بنی ایک چھوٹی سی مسجد بھی ہے جہاں نماز ادا کی جاسکتی ہے، اس مائن کو وزٹ کرنے والے مائن کی خُوبصورتی کو دیکھ کر ورطہ حیرت میں دُوب جاتے ہیں اور ایک دفعہ وزٹ کرنے کے بعد دوبارہ یہاں آنے کی خواہش لیکر واپس جاتے ہیں۔

Featured Image Preview Credit: Shikari7 / CC BY-SA, The Image has been resized.