درختوں کے چند حیرت انگیز اور انتہائی دلچسپ حقائق

ہم سب جانتے ہیں کہ درخت ہمارے ماحول کو صاف سُتھرا بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، یہ ہماری زمین کو خُوبصورت بناتے ہیں اور ہمیں چھاؤں مہیا کرتے ہیں اور ہمارے لیے اور زمین پر رہنے والے جانوروں کے لیے خوراک پیدا کرتے ہیں اورہمارے زندہ رہنے کے لیے آکسیجن بناتے ہیں۔

اس آرٹیکل میں ہم درختوں کے کُچھ ایسے حقائق کو شامل کر رہے ہیں جو درختوں کے متعلق آپ کی معلومات میں مزید اضافہ کریں گے اور آپ کے دل میں اس مخلوق کو مزید جاننے کی خواہش کو بیدار کریں گے۔

درخت زمین پربہت زیادہ لمبی عمر تک زندہ رہنے والی مخلوق ہے اور یہ بُوڑھے ہو کر بھی بہت دیر تک زندہ رہتے ہیں، امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا میں سفید پہاڑوں میں موجود میتھوسیلہ نامی پائن کا درخت 4845 سال پُرانا ہے اور ورلڈ ریکارڈز کے مُطابق اس وقت زمین پر سب سے زیادہ بُوڑھا درخت ہے۔

انسان کی طرح درختوں کے لیے بھی پانی زندگی ہے اور درخت بہت زیادہ پانی پیتے ہیں اور حیاتیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بڑا درخت روزانہ زمین سے تقریباً 100 گیلن پانی پی لیتا ہے اور پھر اس پانی سے آکسیجن اور بخارات کو ہوا میں چھوڑتا ہے، درختوں کی پانی پینے اور آکیسجن اور بخارات ہوا میں چھوڑنے کی صلاحیت ہر درخت میں سائز اور نسل کے حساب سے مختلف ہوتی ہے۔

C:\Users\Zubair\Downloads\pxfuel.com.jpg

درختوں کو اگر حکمت عملی سے اُگایا جائے تو یہ ہمارے بجلی کے بل میں 25 فیصد سے زیادہ کمی کر سکتے ہیں کیونکہ یہ گرمیوں میں جہاں ہمیں چھاؤں مہیا کرتے ہیں وہاں بخارات چھوڑنے کیساتھ ہوا کو ٹھنڈا کرتے ہیں اور سردیوں میں تیز اور سرد ہوا کو روکتے ہیں جس سے سردی کا احساس کم ہوتا ہے۔

File:Apollo 14 crew.jpg
NASA / Public domain

ناسا نے 1971 میں اپنے اپالو مشن کے دوران چاند پر مختلف درختوں کے بیج بجھیجے تھے اور چاند سے واپسی پر ان بیجوں کو بویا گیا اور ان بیجوں سے اُگنے درختوں کو مُون ٹریز کا نام دیا گیا، یہ درخت امریکہ میں کئی جگہ موجود ہیں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کے بیجوں کے چاند پر جانے سے ان پر کوئی فرق نہیں پڑا۔

آپ کو جان کر حیرت ہوگی کہ کُچھ درخت آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ رابطہ کرتے ہیں اور اپنا دفاع بھی کرتے ہیں، سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ کیڑے مکوڑوں کے حملے کی صُورت میں درخت اپنے پتوں میں ایک خاص قسم کا کیمیکل phenolic چھوڑتے ہیں اور اپنے اردگرد موجود دوسرے درختوں کو بھی خطرے کا پیغام بھیجتے ہیں تاکہ وہ بھی اپنا دفاع کرنا شروع کریں۔

C:\Users\Zubair\Downloads\pine-cones-1802246_1280.jpg

درختوں کی ایک قسم پائن کونز میں نر اور مادہ درخت ہوتے ہیں نر درخت پولن چھوڑتا ہے اور مادہ درخت بیج پیدا کرتی ہے اور جب ہوا چلتی ہے تو نر کی چھوڑی ہُوئی پولن مادہ درختوں کے بیجوں میں پولینیشن پیدا کرتی ہے۔

لکڑی کے دروازے پر دستک دینے کی روایت بھی درختوں سے پیدا ہُوئی جب کُچھ خاص مذاہب کے لوگوں نے اپنے عقیدے کے مطابق درختوں پر اس لیے دستک دینی شروع کی کے ان درختوں کے اندر موجود روح کو پیغام بھیجیں اور اُس سے رابطہ کریں۔

ایک درخت سالانہ تقریباً 48 پاونڈ کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور جب درخت کی عؐمر 40 سال سے اوپر چلی جاتی ہے تو وہ 1 ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ ہوا سے جُدا کر سکتا ہے، درختوں کی کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنے کی صلاحیت بھی درخت کے سائز اور نسل کے حساب سے مختلف ہوتی ہے۔

C:\Users\Zubair\Downloads\pine-tree-1480300_1280.png

یہ بات آپ کی معلومات میں اضافہ کرے گی کہ درختوں کی نسل پائن ٹریز دُنیا کے سات میں سے چھ براعظوں پر موجود ہے اور صرف انٹارکٹکا ایک ایسا براعظم ہے جہاں یہ پائن درخت نہیں ہے۔

درخت جہاں گرمیوں میں ہوا کو ٹھنڈا کرتے ہیں وہاں یہ بارش اور زیر زمین پانی کو فلٹر کر کے پانی کی کوالٹی کو بہتر بناتے ہیں۔

C:\Users\Zubair\Downloads\nest-1207966_1280.jpg

درختوں کے مختلف حصے سال کے مختلف اوقات میں پروان چڑھتے ہیں اور عام طور پر درختوں کا تنا گرمیوں میں پروان چڑھتا ہے ، بہار میں پتے زیادہ پھلتے پھولتے ہیں اور سردیوں میں درختوں کی جڑیں زیادہ پروان چڑھتی ہیں اور آپ کو جان کر حیرت ہوگی کہ اگر کسی پرندے کا گھونسلہ درخت پر ہو تو درخت کے قد کے بڑھنے سے پرندے کا گھونسلہ اُونچا نہیں ہوتا بلکہ اپنی جگہ پر ٹنگا رہتا ہے۔

زمین پر درختوں کی 60 ہزار سے زائد اقسام موجود ہیں اور ان کی سب سے زیادہ اقسام برازیل، انڈونیشیا، اور کولیمبیا میں پائی جاتی ہیں۔

Featured Image Preview Credit: Photo by Johannes Plenio from Pexels, The Image has been resized.