دور غلامی کی معیشت اور آج کی معیشت

فیصل آباد سے لاہور جاتے ہوۓ ایک قصبہ فیروز وٹوآں جس کا پرانا نام وار برٹن ہے انگریز دور حکومت میں ایک ذیلی سڑک لمبائی قریب چھ میل ایک انگریز افسر کے زیر نگرانی تعمیر کی گئی ۔ افسر موصوف کی اپنے خانساماں سے ہلکی پھلکی گپ بازی بھی تھی۔

جب سڑک تعمیر ہو گئئ تو خانساماں نے از راہ تجسسس سوال کیا کہ صاحب اس سڑک کی تعمیر پر سرکار کا کتنا خرچہ ہوا۔ صاحب کچھ دیر سوچتا رہا پھر بولا کہ سرکار کا اس سڑک کے بنانے پر لگ بھگ بیس روپے خرچہ آیا ہے۔ خانساماں ہنس پڑا اور کہا کہ صاحب آپ مذاق کرتے ہیں۔انگریز افسر نے جواب دیا نہیں یہ سچ ہے کہ اس سڑک کی تعمیر پر قریب قریب بیس روپے ہی لاگت آئی ہے۔

اس سڑک کی تعمیر میں جو سامان استعمال ہوا ہے مثلاً ریت بجری سیمنٹ وغیرہ وہ سب اس ملک کا اپنا ہے البتہ کاغذ کے نوٹ بطور اجرت اس سڑک کو تعمیر کرنے والوں یاسامان کی خرید پر ادا کۓ گۓ ہیں وہ ولائت سے چھپ کر آۓ ہیں اور ان پر بیس روپۓ لاگت آئی ہے اور یہی اس سڑک کی تعمیر کا خرچہ ہے۔

معیشت کے اس پہلو کو ایک اور کسوٹی پر پرکھتے ہیں ۔ایک کثیرالافراد گھرانہ جس کے افراد مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھتے ہوں مثلاً کسان مزدور لوہار موچی معمارحکمت وغیرہ وغیرہ اور جو اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لۓ کسی دوسرے گھرانے کے مہتاج نہ ہوں کا خرچہ کیا ہے۔سیدھا سا جواب ہے صفر کیونکہ پیسہ ایک بھائ کی جیب سے دوسرے بھائی کی جیب میں چلا تو گیا مگر اسی گھرانے میں رہا۔البتہ وہ آمدن جو اپنی پیشہ روانہ مہارت سے دوسرے گھروں کو پہنچائیں گے اس سے وہ مزید خوشحال ہوں گے۔ اس کے بر عکس اگر یہ لوگ اپنی ضروریات باہر سے خریدیں گے تو ان کی معیشت کمزور ہو جاۓ گی اور ایک دن اندھے کونوں میں گر جاۓ گی۔

پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جو اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے میں نہ صرف خود کفیل ہے بلکہ ضرورت سے زائد اشیا برآمد کر کے غیر ملکی زر مبادلہ بھی کماتا ہے۔ گندم کپاس چاول اور دوسری اہم اشیا کی پیداوار میں پاکستان کا شمار دنیا کی دس بھڑ ی معیشتوں میں ہوتا ہے۔پھر اس کی معیشت کمزور کیوں ہے۔

ہمارے عوام بالعموم حکمران باہر کے ممالک کی تیار کردہ اشیا استعمال کرتے ہیں۔اور شرمندگی کی بات یہ ہے وہ اس پر فخر بھی کرتے ہیں۔ یوں اربوں کا سرمایہ وہ اپنی جھوٹی انا کی تسلی اور سفلی جذبات کی تسکین کے لۓ ملک سے باہر بھیج دیتے ہیں۔بیشتر سیاستدان اور امرآ اپنا سیاہ دھن چھپا کر باہر جائدادیں خرید لیتے ہیں۔ پاناما لیکس جیسے سکینڈل زبان زد عام ہیں ۔

ملک میں اسمبلی سے لیکر احتساب کے سب ادارے موجود ہیں مگر ان میں ایسے لوگ براجماں ہیں جو خود کرپٹ ہیں ایسے لوگوں کو چن چن کر لگایا جاتا ہے جو پوسٹنگ اتھارٹی کی جوتی ہوتے ہیں۔ ایسے میں اگر ملک غریب ہی ہو گا چند لوگ ملک کو لوٹ رہیں ہیں اور ہمارا عدالتی نظام ان کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ خدا کے لۓ سمجھو اور اپنی طاقت سے اس نظام کو بدلو اور ملک کو لوٹنے والوں کو نشان عبرت بنا دو۔ کاش ایسا ہو سکے۔ ورنہ وہ وقت دور نہیں جب یہ سب لوٹ کر فرار ہو جائیں گےاور قوم اپنی موت آپ مر جاۓ گی۔
از عبدالرشید مرزا