غور کرنے سےمنفی سوچ کو مثبت سوچ میں بدلا جا سکتا ہے

مثبت سوچ انسان کی وہ صفت ہے جس سے وہ بڑے بڑے پہاڑ گرا سکتا ہے  یہ انسان کی سوچ ہی ہے جو اُسے فکر کی دعوت دیتی ہے اور فکر اُسے غور کرنے پر اُکساتی ہے اور غور کرنے سے وہ جہاں قُدرت کے چُھپے ہُوئے گہرے رازوں سے شناسائی حاصل کرتا ہےوہاں غور کرنے والے نا ممکنات کو ممکنات میں بدلنے کا ہُنر سیکھتے ہیں اور پھر اپنے کردار کی تکمیل کرتے ہیں۔

سوچ اگر مثبت نہ ہو تو فکر کی دعوت نہیں ملتی کیونکہ منفی سوچ انسان کا وہ عیب ہے جو اُس سے اُس کا سُکھ چین قرار اور پھر کردار تک چھین لیتی ہے اور اُسے نفرت پر اُکساتی ہے لہذا منفی سوچ کوجتنی جلدی بدل دیا جائے اُتنا ہی بہتر ہے۔ اس آرٹیکل میں عزیر رشید کے قلم سے لکھی گئی غور و فکر اور  مثبت سوچ کی دعوت دیتی دانائی کی چند باتوں کو شامل کیا جارہا ہے جس سے آپکو اپنا کردار بُلند کرنے میں مدد ملے گی۔

اگر آپ کو وہ فصل پسند نہیں جو آپ کاٹ رہے ہیں تو اُن بیجوں پر غور کیجیے جو آپ بو رہے ہیں کوئی شک نہیں کہ کاٹا اُسے ہی جاتا ہے جو بویا جاتا ہے۔
اگر آپ کو وہ نظریں پسند نہیں جن سے لوگ آپ کو دیکھتے ہیں تو اُن نظروں پر غور کیجیے جن سے آپ لوگوں کو دیکھتے ہیں۔

اگر آپ کو وہ انداز پسند نہیں جس سے لوگ آپ کو مخاطب کرتے ہیں تو اُس انداز پر غور کیجیے جس سے آپ لوگوں کو مخاطب کرتے ہیں۔ اگر آپ کو وہ جگہ پسند نہیں جہاں آپ کھڑے ہیںتو اُن قدموں پر غور کیجیے جن سے چل کر آپ وہاں پہنچے ہی

اگر آپ کو وہ شخص پسند نہیں جس نے آپ کا دل توڑا ہے تو اُس شخص پر غور کیجیے جس کا دل آپ نے توڑا ہے۔  اگر آپ کو وہ روشنی پسند نہیں جو آپ کے باہر ہے تو اُس اندھیرے پر غور کیجیے جو آپ کے اندر ہے۔

اگر آپ کو وہ تحریر پسند نہیں جو آپ کے بارے میں لکھی گئی ہے تو اُس کہانی پر غور کیجیے جو آپ نے خود اپنے ہاتھوں سے لکھی ہے۔ اگر آپ کو وہ درخت پسند نہیں جس کا پھل دوسرے کھایئں گے تو اُن درختوں پر غور کیجیے جن کا پھل آپ کھاتے ہیں

اگر آپ کو وہ لباس پسند نہیں جو آپ نے پہن رکھا ہے تو اُس لباس پر غور کیجیے جسے پہن کر آپ اس دنیا میں آئے تھے۔ اگر آپ کو وہ خواب پسند نہیں جو آپ نے سوتے ہوئے دیکھا ہے تو اُن خوابوں پر غور کیجیے جو آپ جاگتے ہوئے دیکھتے ہیں۔

اگر آپ کو وہ بے سکونی پسند نہیں جو آپ کو کسی نے دے رکھی ہے تو اُس سکون پر غور کیجیے جو آپ نے کسی کا چھین رکھا ہے۔ اگر آپ کو وہ شہرت پسند نہیں جو آپ کو مل رہی ہےتو اُس محنت پر غور کیجیے جس کا یہ نتیجہ ہے۔

اگر آپ کو وہ حکمران پسند نہیں جو عیش و عشرت میں ڈوبا ہوا ہے تو اُس عوام پر غور کیجیے جس نے اُسے چُن رکھا ہے۔ اگر آپ کو وہ مایوسی پسند نہیں جس نے آپ کو جگا رکھا ہے تو اُس اُمید پر غور کیجیے جسے آپ نے سُلا رکھا ہے۔

اگر آپ کو وہ نفرت پسند نہیں جس نے آپ کو گھیر رکھا ہے تو اُس محبت پر غور کیجیے جس سے آپ نے دامن پھیر رکھا ہے۔  اگر آپ کو وہ دھواں پسند نہیں جو آپ کے گھر سے اُٹھ رہا ہے تو اُن لکڑیوں پر غور کیجیے جنہیں آپ نے جلا رکھا ہے۔