فنانس منیجمنٹ اور اُستاد جیرا

اُستاد جیرا غریب آدمی تھا پر تھا دل والا اورمشٹنڈوں کا مشٹنڈا اور اُستادوں کا اُستاد جو اُڑتی جڑیا کے پر گن لیتا تھا، اُستاد کےگھرایک دن کُچھ دوست مہمان آئے اور اُستاد سے شہر کے ایک مہنگے ہوٹل میں کھانے کی فرمائش کردی، اُستاد نے جیب سے بٹوا نکالا اُس میں صرف 500 روپیے تھے، اُستاد نے بٹوا بند کر کے جیب میں رکھا اور دوستوں سے بولا ٹھیک ہے تُم بھی کیا یاد کرو گے چلو کھانا کھاتے ہیں۔

ہوٹل پہنچ کر اُستاد نے سب دوستوں سے کہا جو جی چاہتا ہے منگواؤ اور خُود بھی سب کے ساتھ دل کھول کر کھانے کا آرڈر کیا اور سیر ہو کر کھایا کھانے کے بعد اُستاد نے ویٹر سے بل منگوایا، ویٹر بل لیکر آیا جو 20 ہزار روپیےتھا۔

اُستاد نے ویٹر سے بل لیا اور بل لیکر منیجر کے کمرے میں چلا گیا اور منیجر سے بولا آپ نے 20 ہزار روپیے کا بل بھیجا ہے جسے ادا کرنے کے لیے میرے پاس اس وقت کوئی پیسے نہیں ہیں، منیجر نے پُولیس کو فون کیا اور اُستاد کو پُولیس کے حوالے کر دیا، پولیس اُستاد کو لیکر جانے لگی تو اُستاد نے دوستوں سے کہا پریشان نہ ہوں آپ سب لوگ میرے گھر جائیں میں بھی 15 منٹ میں واپس آرہا ہوں۔

پھر ایسا ہی ہُوا دوست پریشان اُستاد کے گھر پہنچے اور ساتھ ہی اُستاد جیرا بھی مُسکراتا ہُوا گھر میں داخل ہُوا، سب دوستوں نے پُوچھا کہ یہ کیا ماجرہ ہے اُستاد؟، اُستاد بولا ” یار ہوٹل والوں نے 20 ہزار کا بل بنا کر بھیجا تھا میری جیب میں صرف 500 روپیے تھے یہ بات میں نے منیجر کو بتائی تو اُس نے پولیس بُلا کر مجھے پُولیس کے حوالے کر دیا ، میں نے 500 پولیس والوں کو دیا اور گھر واپس آگیا”۔