قرض واپس کرنے کا ریکارڈ

قرضوں میں ڈوبا پاکستان اس وقت اپنی تاریخ کے سب سے مشکل وقت میں سے گُزر رہا ہے جہاں اس کے تقریباً تمام ادارے یا تو گروی ہیں اور یا خسارے میں جارہے ہیں ڈالر تاریخ کی بُلند ترین سظح کا ریکارڈ روز توڑتا ہے اور روپیہ اپنی قدر مسلسل کھوئے جارہا ہے، معاشیات کا یہ نقطہ سمھجنا مشکل نہیں ہے کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے اور اب سب لوگ جانتے ہیں کہ اس کی سب سے بڑی وجہ پاکستان کا گُزشتہ سالوں میں لیا جانے والا قرض ہے جس کی قسطیں چُکانے کے لیے مہنگائی کا طوفان روز غریبوں کے گھروں کی دیواریں گراتا ہے اور 20 کڑوڑ میں سے 5 کڑوڑ بیچارے غُربت کی لکیر سے بھی نیچے زندگی گُزار رہے ہیں۔

ایسے مشکل حالات میں موجودہ حکومت جس کے منشورمیں پاکستان کا سارا قرض اُتارنا شامل ہے نے گُزشتہ تقریباً ایک سال میں اس قرضے کو اُتارنے کے لیے کیا اقدامات کیے ہیں آئیے دیکھتے ہیں۔

سٹیٹ بنک کی رپورٹ کے مُطابق حکومت پاکستان نے گُزشتہ 9 مہینوں کے اندر 5.72 بلین ڈالر بیرونی قرضوں کی مد میں ادا کیے ہیں جس میں 4 ارب 14 کڑوڑ ڈالر اصل قرضے کی مد میں اور 1 ارب 46 کڑوڑ ڈالر سُود کی مد میں ادا کیا ہے، ان اعداد و شُمار کی روشنی میں موجودہ حکومت پچھلی گُزرنے والی دونوں حکومتوں سے زیادہ مُلک کا قرضہ اُتارنے میں کامیاب ہوئی۔

پاکستان کا کل قرضہ 2006 کے اختتام پر تقریباً 30 ارب ڈالر تھا جو 2013 تک ڈبل ہوکر 60 ارب ڈالر ہوگیا اور 2013 سے 2018 تک مزید ڈبل ہوکر 120 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا ااور گُزشتہ 9 مہینے میں حکومت اس قرض کے اصل میں سے صرف 4ارب اور 14 کڑوڑ ڈالر واپس کر پائی ہے مگر یہ پیسے واپس کر کے گُزشتہ گُزرنے والی دونوں حکومتوں کے مقابلے میں 9 مہینے میں سب سے زیادہ قرض واپس کرنے والی حکومت بن گئی ہے۔