نظام سقہ کا تاریخی فیصلہ

نظام سقہ کا تاریخی فیصلہ

نظام سقہ مغل بادشاہ ہمایوں کے دور میں ایک دن کا بادشا بنا جس کے بارے  آپ یقیناً جانتے ہوں گے۔یہ فیصلہ اسی کا ہے۔ اس کے دربار میں ایک چمار  جو  چمڑا رنگنے کا کام کرتا تھا۔۔نے ایک سوداگر کے خلاف شکائت کی کہ اس نے اس کی بیوی کو اغوا کر لیا ہے۔،،،اس کی بیوی واپس دلائی جاۓ۔نظام سقہ نے سوداگر اور بقول چمار اس کی اغوا شدہ بیوی کو پیش کر نے  کا حکم دیا۔
جس کی فورآ تعمیل کی گئ۔

نظام سقہ نے حکم دیا کہ مذکورہ عورت کوچمار کے زیر نگرانی اس کے  گھر رات میں رکھا جاۓ اور صبح پیش کیا جاۓ۔اگلے دن صبح کو چمار سوداگر اور عورت کو دربار میں پیش کیا گیاتو نظام کی بادشاہت جو صرف ایک دن کے لۓ تھی ختم ہو چکی تھی۔شہنشاہ ہمایوں احوال مقدمہ جان کر اور یہ جان کر کہ رات عورت کو چمار کے گھر رکھنے اور صبح فیصلہ کے لۓ عدالت میں پیش کرنے کا جان کر پس و پیش میں مبتلا ہو گیا۔بالآخر نظام سقہ کو بلایا اور اس سے گزارش کی کہ میں آپ کےاحکام کو سمجھنے سے قاصر ہوںلہذا آپ ہی اس مقدمہ کا فیصلہ صدر کر دیں ۔

نظام سقہ عرض گزار ہوا کہ میری مدت بادشاہت ایک دن کے لۓ تھی جو ختم ہو چکیاب میں کس حیثیت سے مقدمہ کا فیصلہ کر سکتا ہوں۔ہمایوں نے تاج سر سے اتارا اور نظام سقہ کے سر پر رکھ دیا اور دوبارہ نظام سقہ کو تخت پر بٹھا دیا۔ہمایوں نیچے دربار میں آ کر کھڑا ہو گیا اور فیصلہ کا انتظار کر نے لگا۔نظام سقہ نے اس عورت کو جو رات کو عورت کی نگرانی پر مامور تھی طلب کیااور پوچھا کیا یہ عورت رات بھر سوئی رہی۔
نگران عورت نے جواب دیا کہ بادشاہ حضور یہ رات بھر بلا کروٹ بدلے آرام سے سوتی رہی ہے۔

نظا م ۔سقہ نے حکم دیا کہ یہ عورت چما ر کی بیوی ہے لہذا اسے چمار کے حوالے کر دیا جاۓاور سوداگر کے خلاف عورت کو اغوا کرنے کا علیہدہ مقدمہ درج کر کے عدالت میں پیش کیا جاۓ۔ہمایوں سمیت تمام درباری فیصلہ سن کر حیرت میں مبتلا تھے۔

آخر ہمایوں نے جرات کر کے نظام سقہ سے فیصلہ کی وضاحت چاہیاور ایسے حالات میں جب عورت خود کہ رہی ہے کہ میں سوداگر کی بیوی ہوںآپ نے یہ فیصلہ کس بنیاد پر کیا کہ یہ چمار کی بیوی ہے اور اسے چمار کے حوالے کر دیا جاۓ۔نظام سقہ نے جواب دیا کہ چمار جو چمڑا رنگنے کا کام کرتا ہےکے گھر میں اس قدر بدبو ہوتی ہے کہ سونا تو درکنار کوئی شخص اس کے گھر کے پاس سے بھی گزرے تو رومال ناک پر رکھ لیتا ہے۔
ایسے میں وہی شخص اس گھر میں سو سکتا ہے جو پہلے سے اس گھر میں رہ چکا ہو۔چونکہ عورت رات بھر آرام سے سوتی رہی ہے اس لۓ چمار کی بیوی ہے۔یاد رہے پچھلے دنوں محترم سپیکر قومی اسمبلی صاحب با کردار عالی جناب ایاز  صادق صاحب

نے  بھی ایک تاریخ ساز فیصلہ فرمایا ہے جس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں ۔یہ بھی یاد رہے کہ پاکستان میں عوام کی بھلا ئ کا اگر کوئ کام ہوا ہےتو وہ مارشل لا کے ادوار میں ہوا ہے۔ یہ جمہور یت جس کا چرچا دن رات کیا جاتا ہےجو جمہوریت کا چربہ بھی نہیں ہے نے لوٹ مار کا وہ بازار گرم کیا  ہےکہ عوام کے منہ سے نوالہ تک چھین لیا ہے۔
جمہوریت کا راگ الاپنے والے ایک سے بھڑ کر ایک سب اپنی جیبیں گرم کر نے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔اوپر سے دن رات یہ پرزہ  سرائ کہ جمہوریت ہی میں اس ملک  کی بقا ہے۔
واہ جی واہ اسلامی جمہوریہ پاکستان زندہ باد۔
(عبدالرشید مرزا)