ٹارٹر سے نجات کے 12 آسان ٹوٹکے

ٹارٹر صرف دانتوں اور صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہے بلکہ یہ آپ کی مسکراہٹ کو بھی ماند کر دیتی ہے۔چاٗے ،کافی پان اور سیگرٹ کا استعمال کرنے والے اس سے کبھی بھی بچ نہیں پائے لیکن تھوڑی سی احتیاط کے ساتھ یہ 12 گھریلو ٹوٹکے آپ کے منہ میں کبھی بھی ٹارٹر کو پیدا نہیں ہونے دیں گے۔

1۔ چیز (پنیر)

پنیر روزمرہ کے کھانوں میں استعمال ہونے والی چیز ہے کھانے سے پہلے تھوڑی سی پنیر اگر منہ میں چبا کر کھائی جائے تو یہ کھانے کے بعد منہ اور معدے میں تیزابیت نہیں پیدا ہونے دیتی اور دانت ٹارٹر سے محفوظ رہتے ہیں۔

2.بیکینگ سوڈا

سوڈیم بائی کاربونیٹ یا بیکینگ سوڈے کو نمک ملا کر ٹوتھ پیسٹ میں شامل کرکے دانتوں پر برش کیا جائے تو یہ ٹارٹر کو ختم کر دیتا ہے اور آپ کے دانت سفید چمکدار اور صحت مند ہوجاتے ہیں۔

3.ایلو ویرا

بے پناہ خوبیوں کا مالک یہ پودا اگر دانتوں پر مل کر 10 منٹ تک چھوڑ دیا جائے تو یہ ٹارٹر کو پیدا کرنے والے بیکٹیریا کو ختم کر دیتا ہے۔

4.امرود

امرود کے پتے چبا کر پھینک دیں یہ آپ کے مسوڑوں سے سوزش ختم کردیں گے اور منہ میں ٹارٹر کو پیدا ہونے سے روکیں گے۔

5.لونگ

لونگ کا استعمال صدیوں سے دانتوں کی مختلف بیماریوں سے بچنے کے لیے کیا جارہا ہے ڈاکڑز کے مطابق لونگ کے پاوڈر کو زیتون کے تیل میں شامل کر کے دانتوں پر برش کریں یہ ٹارٹر کے علاوہ بھی دانتوں کے لیے انتہائی مفید ہے۔

6.سفید سرکہ

سفید سرکے میں نمک کی مقدار 2:1 ڈال کر ماوتھ واش بنا لیں اور روزانہ اس سے کلی کریں یہ ٹارٹر  کو ختم کر دے گا اور منہ میں پیدا ہونے والے جراثیم کا خاتمہ کر دے گا۔سرکے کا روزانہ استعمال دانتوں کو موتیوں جیسا چمکدار بناتا ہے ۔

7.روزمیری آئل

دو قطرے روزمیری آئل کے ناریل کے تیل میں یا پانی میں مکس کر کے صبح شام کلی کریں آئل میں شامل اینٹی بیکٹریل خصوصیات آپ کے دانتوں میں ٹارٹر پیدا نہیں ہونے دے گی۔

8۔آئل پولینگ

ایک ٹیبل سپون خالص ناریل کے تیل کو 15 منٹ منہ میں رکھ کر بعد میں برش کر لیں منہ میں کبھی ٹارٹر پیدا نہیں ہو گی اور دانت جمکدار ہو جائیں گے۔تیل کی یہ کلی مسوڑھوں کی سوجن کے لیے بھی انتہائی مفید ہے ۔

9.سیٹرس فروٹ

ان پھلوں کا جوس ٹارٹر پیدا نہیں ہونے دیتا لیکن ان پھلوں کے چھلکے بھی دانتوں پر ملے جائیں تو انتہائی مفید ہیں جو دانتوں کو چمکدار کر دیتے ہیں۔خاص طور پر کینو اور لیمو کا چھلکا ، لیمو کا چھلکا چکنائی اور ٹارٹر کو ختم کرنے کے لیے صدیوں سے استعمال کیا جارہا ہے ۔

10نیم

نیم ایک قدرتی اینٹی بائکٹیریل ہے جس کا پاوڈر یا تیل کو مسٹرڈ پاوڈر کے ساتھ مکس کر کے دانتوں پر ملنا انتہائی مفید ہے جو ٹارٹر کو جڑ سے اکھاڑ دیتا ہے۔بہت سے درختوں کے پتوں اور شاخون میں جنہیں ہم مسواک کے طور پر استعمال کرتے ہیں اللہ تعالی نے منہ کی صضائی اور دانتوں اور منہ کی بیماریون کے لیے شفا رکھی ہےروزانہ مسواک کرنے والوں کے منہ  سے بدبو اور دانتوں ٹارٹر نہ غائب ہوجاتی ہے بلکہ انہیں دوبارہ بننے سے بھی روکتی ہے۔

11.بلیک ٹی

نیم گرم کالی چائے کی پتی دانتوں پر ملنے سے ٹارٹر ختم ہو جاتی ہے۔اس کے علاوہ چائے کے پتے دانتوں میں ٹارٹر کو پیدا ہونے سے روکنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں یہ جہاں منہ میں ٹارٹر پیدا ہونے سے روکتے ہین وہاں یہ میں پیدا ہونے والی بدبو کو ختم کرتے ہیں اور منہ کا ذائقہ خوشگوار رکھتے ہیں۔

12. دھاگے سے صفائی

برش کے علاوہ ڈینٹل ٹیپ سے دانتوں کی ریگولر صفائی بھی دانتوں میں ٹارٹر پیدا نہیں ہونے دیتی۔دانتوں کے اندر خلا میں جب خوراک پھس جائے تو اکثر برش کرنے سے بھی وہ خلا صاف نہیں ہوتے ڈینٹل ٹیپ سے دانتوں کے خلا کی صفائی کرنے سے خلا میں پھنسی خوراک نکل جاتی ہے جس سے منہ میں بدبو اور ٹارٹر پیدا نہیں ہوتی۔

دانتوں میں ٹارٹر پیدا ہونے کی ایک بڑی وجہ دانتوں کا اچھی طرح برش نہ کرنا ہے ماہرین اور ڈاکٹرز کا کہنا ہے  روزانہ کم از کم دو دفعہ برش کرنا بہت ضروری ہے اور ایک ٹائم میں کم از کم پانچ منٹ تک دانتؤں کی صضائی جاری رکھیں اور منہ میں چاروں طرف اچھی طرح برچ چلائیں  اور برش کے بعد اپنی زبان کو بھی اچھی طرح برش سے صاف کریں اور اس اصول کو اپنی زندگی کا لازمی جُز بنانے سے دانت ہمیشہ چمکدار اور سانس کوشگوار رہتی ہے۔