پاکستانی حکمرانوں کے 7 سچے لطیفےہنسی سے لوٹ پوٹ ہونے کے لیے

لطیفہ نمبر 1

Image result for bhutto speech lahore
 ذولفقار علی بھٹو صاحب جلسے سے   خطاب کررہے تھے اسی دوران مجمع کی اگلی صف میں سے  ایک باریش شخص نے بھٹو کو جوتا دکھایا۔بھٹو نے مسکرا کر جواب میں کہا کہ "مجھے پتہ ہے اۤجکل چمڑا بہت مہنگا ہو گیا ہے۔میں آئندہ الیکشن جیت کر چمڑا سستا کر دوں گا جس سے  جوتے سستے ہو جائیں گے”۔

لطیفہ نمبر 2

Image result for general faiz chishti
جنرل فیض علی چشتی پاکستان کے سابقہ تھری سٹار رینک جنرل اور فیلڈ کمانڈر رہ چکے ہیں ۔جنرل ضیاء الحق کے ہمراہ جنرل فیض اپنا ایک قصہ بیان کرتے ہین کہ وہ سب فرانس کے دورے پر تھے، وفد کے ارکان کو فرانس کےشاندار ہوٹل میشام میںجنرل ضیاء الحق کے دروازے پر دستک ہوئی ، صدر صاحب نے دروازہ کھولا تو دیکھا کہ درواز پر سفید وردی میں ملبوس ایک گورا کھڑا ہے جس کے یونیفورم پرکئی میڈل اور پٹیاں لگی ہوئی تھیں۔ 
صدر مملکت  نے اسے دیکھ کر فوراً تپاک سے ہاتھ ملایا ، گلے ملے اور اسے کمرے میںآنے کی دعوت دی، پھر رسمی سوالات کے  بعد صوفے پر بٹھایا اور فرانس کے قومی حالات اور فرانس اور پاکستان کے مابین فوجی تعاون پر بات چیت شروع کی۔ 

چند منٹوںکے بعد وہ شخص بولا ” سر میں اۤپ کو سمجھ نہیں پایا۔ لیکن پھر بھی میرے لائق کوئی خدمت ہے تو میں حاضر ہوں
جنرل ضیاءصاحب حیران ہوئے اور  پوچھا کہ وہ کون ہے؟ ۔
گورے نے جواب دیا"سرمیں اس ہوٹل کا بیرا ہوں” ۔ اور آپکی سروس کے لیے آیا تھا۔
یہ سن کر صدر ضیاالحق بڑے شرمندہ ہوئے۔ اس گورے کو رخصت کیا ۔ اور بعد میں، میں نے صدر مملکت سے پوچھا ۔ آپ نے اس بیرے کو کیا سمجھا تھا ۔ 

جنرل صاحب کہنے لگے۔۔۔۔میں سمجھا تھا فرانسیسی بحریہ کے ایڈمرل ملاقات کے لیے آئے ہیں۔ " 
اسکے بعد ہم دونوںجنرل ہنسی سے لوٹ پوٹ ہوتے رہے۔ 

لطیفہ نمبر 3

Image result for BENAZIR WITH FAROOQ LEGHARI
محترمہ بےنظیر بھٹو جس وقت 1993 میںدوسری دفعہ وزیراعظم منتخب ہوئیں تب انہوں نے سردار فاروق لغاری صاحب کو صدر پاکستان منتخب کروایا۔ محترمہ کو جب بھی فاروق لغاری صاحب کی ضرورت پڑتی وہ انہیں   اپنے پاس طلب کر لیتی تھیں۔ شروع میں انہیں مسٹر لغاری اور پھر بعد میں مسٹر پریذیڈنٹ کہہ کر بلاتی تھیں۔ 

محترمہ کے ساتھ رہنے والوں کے مطابق جب آخری دور میں بی بی کے فاروق لغاری سے اختلافات بڑھ گئے  تو ایک دن بےنظیر خود چل کر ایوانِ صدر گئیں اورفاروق لغاری صاحب سے ملاقات میں انہیںبھائی لغاری ” مخاطب کیا۔
فاروق لغاریبولے ” میڈم ۔ یہ ملاقات وزیراعظم اور صدر کے درمیان ہے بہن بھائی کے درمیان نہیں۔ اس لیے بھائی بھائی کی بجائے سیاسی حالات پر بات کیجئے۔ "

فاروق لغاری کے منع کرنے کے باوجود بھی جب بےنظیر بھٹو  انہیں” بھائی لغاریکہنے سے باز نہ آئیں تو صدر لغاری کھڑے ہو گئے اور  اپنی بیوی کو بلا کرکہا ” تمھاری نند آئی ہےاس سے گپ شپ کرو میں ضروری کام سے باہر  جارہا ہوں  اور پھر گاڑی میں بیٹھ کر باہر چلے گئے۔
پھر کچھ ہی دن بعد  فاروقلغاری نے بےنظیر کی حکومتگرا کرنگران حکومت بنا دی ۔
کتاب: حکمرانوں نے کیسے گل کھلائے ۔۔ (غریب اللہ غازی )

لطیفہ نمبر 4

Image result for general yahya khan
صدر یحییٰ خان عیش و عشرتکےدلدادہ سمجھے جاتے تھے۔ ایک دن قصرِصدارت میں مشہور خوبصورت اداکارہ ترانہ کو بلوایا ۔اداکارہ ترانہ صدر یحییٰ سے ملاقات کے لیے اپنی کار پر سوار  ہو کر پریذیڈنٹ ہاؤس پہنچی تو پریذڈینٹ ہاؤس کے گارڈ نے گاڑی کو بلاروک ٹوک اندر جانے دیا ۔

رات گئے جب اداکارہ ملاقات کے بعد واپس جانے لگی تو مرکزی دروازے پر موجود چاق و چوبند جوان نے اداکارہ ترانہ کو پرزور سیلیوٹ کیا ۔ اس پذیرائی پر اداکارہ ترانہ رک گئی اور سنتری سے پوچھا 
 جب میں اندر گئی تھی تب تو تم نے سیلیوٹ نہیںکیا تھا اور جب کہ اب میرے واپس جاتے ہوئے تم سیلیوٹ کررہے ہو؟ اسکی کیا وجہ ہے ؟ " 

سپاہی نے بلاجھجک جواب دیا میڈم ! داخل ہوتے وقت آپ صرف ترانہ تھیں۔ اب صدرِ مملکت سے ملاقات کے بعد آپقومی ترانہبن چکی ہیں۔ اور قومی ترانے کو سیلیوٹ کرنا میرا فرض ہے "۔:)

لطیفہ نمبر 5

Image result for malik meraj khalid
ملک معراج خالد مرحوم نگران وزیراعظم بنے تو انہوں نے قوم کو سادگی سکھانے کے لیے اپنے لیے ہر قسم کا سرکاری پروٹوکول منع کردیا ۔ ایک دن وہ مال سے گذررہے تھے کہدیکھا کہ پولیس نے ہرطرف ٹریفک جام کررکھی ہے۔ آدھا گھنٹہ انتظار کے بعد انہوں نے گاڑی کے قریب گذرتے ایک پولیس کانسٹیبل سے پوچھا بھإئی ۔ پچھلے آدھے گھنٹے سے ٹریفک کیوں بند ہے ؟ ۔

کانسٹیبل نے انہیں پہچانے بغیر کہاجناب گورنر پنجاب خواجہ رحیم گذر رہے ہیں" ملک معراج خالد نے موبإئیل پر خواجہ رحیم سے رابطہ کیا اور کہا کہآپ کے پروٹوکول میں میں بھی پھنسا ہوا ہوں۔ "
خواجہ رحیم نے قہقہہ لگایا اور کہاملک صاحب ۔ معذرت۔ لیکن اب تو میرے گذرنے کے بعد ہی ٹریفک کھلے گی اور میرے گذرنے میں ابھی 1 گھنٹہ باقی ہے"
چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ خواجہ رحیم کا قافلہ کافی دیر بعد گذرا ۔ اور سادگی پسند وزیراعظم صاحب کی گاڑی کو 2 گھنٹے کے بعد آگے بڑھنا نصیب ہوا ۔

لطیفہ نمبر 6

Image result for MUSHARRAF FOURپاکستان کی تاریخ میں سب سے تعلیم یافتہ قومی اسمبلی (مشرف دور) کے پہلے اجلاس میں اسمبلی ممبران سے حلفِ وفاداری لیا جا رہا تھا۔ تمام ممبران کے ہاتھ میں کاغذات تھے، جن پر حلف کی عبارت لکھی تھی۔ سب سے پہلے سپیکر قومی اسمبلی چوہدری امیر حسین نے بتایا کہ میں اس عبارت کو پڑھوں گا اور آپ ساتھ ساتھ اسے دہرائیں گے۔ اب جو حلف نامہ پڑھا گیا وہ مندرجہ ذیل تھا ۔۔۔

سپیکر: میں ،،،ممبران: میں
سپیکر: آگے اپنا اپنا نام لیں۔ ،،،ممبران: آگے اپنا اپنا نام لیں۔
اور اس کے بعد اسمبلی ہال میں ایک فلک شگاف اجتماعی قہقھہ بلند ہوا، جس میں ممبرانِ قومی اسمبلی خود اپنا ہی مذاق اڑا رہے تھے۔

لطیفہ نمبر 7

Image result for nawaz sharif
ایک بار میاں نواز شریف اپنے وفد کے ساتھ چین کا دورہ کرنے گئے تو جہاز کے اندر انہوں نے سری پائے سے بھرے پیالے سب کو دیئے اور خود بھی یہ کھانا کھایا۔ اِس کے بعد ہریسہ، نہاری، حلیم، تکے ، کباب اور بہت سا دوسرا سامانِ خوردونوش آگیا۔ سب نے ڈٹ کرکھایا، پھر لسی کے بڑے بڑے گلاس بھی پینے کو ملے۔ پیٹ بھر کر کھانا کھانے کے بعد سب لوگ نیند کی آغوش میں چلے گئے، بلکہ نیند کی شدت سے میاں صاحب سمیت سب افراد گررہے تھے۔ چین میں ہوائی اڈے پر اُترے تو وزیراعظم سمیت تمام قافلے کو فوراَ ہوٹل پہنچایا گیا۔ وفد کے تمام ارکان جی بھر کر سوئے اور اگلے روز اُٹھے تو پھر سرکاری دورہ شروع ہوا۔ :