کرتار پور سکھوں کے لیے ایسے ہے جیسے مسلمانوں کے لیے مدینہ

کرتار پور سکھوں کے لیے ایسے ہے جیسے مسلمانوں کے لیے مدینہ

کرتار پور پاکستان میں تحصیل شکر گڑھ ڈسٹرکٹ ناروال کے قریب ایک چھوٹا سا شہر ہے ، شہر کے دوسرے کنارے پر دریائے راوی بہتا ہے اور دریائے راوی کے دوسرے طرف لائن اۤف کنٹرول ہے جہاں سے بھارت شروع ہوتا ہے ۔

کرتار پور سے بھارتی پنجاب کے شہر ڈیرہ بابا گرو نانک تقریبا 15 کلومیٹر دور ہے جہاں بابا گرونانک بیٹھا کرتے تھے۔

Image result for baba guru nanak

کرتار پور شہر سکھ مذہب کے ماننے والوں کے لیے ایسے ہی ہے جیسے مسلمانوں کے لیے مدینہ کیونکہ سکھوں کے روحانی پیشوا بابا گرو نانک نے اپنی زندگی کے اۤخری ایام اس شہر میں گزارے اور اسی شہر میں وفات پائی۔

سکھوں کی تاریخ کے مطابق کرتار پور شہر کو بابا گرو نانک نے 1522 میں اۤباد کیا اور یہاں سکھوں کا سب سے پہلا گُردوارا بابا کرتار پور صاحب کی تعمیر کی، اور یہیں سے سکھ مذہب کی تبلیغ شروع کی اور کرتار پور کے لوگوں نے بابا صاحب کے ہاتھ پر سکھ مذہب قبول کیا۔

Kartarpur Guru Nanak.jpg

سکھوں کا کہنا ہے کہ بابا گرو نانک صاحب کا انتقال بھی اسی گردوارے میں ہوا۔

بابا گرونانک سکھوں کے دس گرووں میں پہلے نمبر پر ہیں جو پاکستان کے ایک شہر ننکانا صاحب جو کے فیصل ۤباد سے تقریبا 75 اور لاہور سے 91 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے میں 29 نومبر 1469 میں پیدا ہوئے اور اسی شہر سے بابا جی نے سکھ مذہب کا پرچار شروع کیا شہر کا نام بعد میں بابا جی کے نام پر ننکانا صاحب رکھا گیا۔

بابا گرو نانک کی 974 نظمیں جو انہوں نے لکھیں سکھوں کی روحانی کتاب گرو گرنتھ صاحب میں درج ہیں ، بابا گرو نانک کا انتقال 22 ستمبر 1539میں کرتارپور شہر میں ہوا اور اپنے انتقال سے پہلے انہوں نے بھائی لہنا کو سکھوں کا روحانی پیشوا مقرر کیا جنہیں سکھ گرو انگد کے نام سے عزت دیتے ہیں۔

پاکستان کا حسن اقدام

عمران خان کا کرتار پور بارڈر سکھوں کے لیے کھولنا سکھوں کے لیے ایک بہت بڑی بات ہے کیوں کے سکھ کرتار پور بارڈر سے کرتار پور شہر داخل ہو سکیں گے جو پہلے انہیں واہگہ کے راستے داخل ہونا پڑتا تھا جو کرتار پور سے تقریبا 150 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

Image result for kartarpur border

پوری دنیا میں پاکستان کے اس انسان دوست اقدام کو سراہا جا رہا ہے اور اسے دونوں ملکوں کے درمیان بھائی چارے کے قیام کی امید سمجھا جا رہا ہے۔