کیا آدم علیہ السلام سے پہلے بھی کسی انسان کو پیدا کیا گیا

آسمانی کتابوں پر یقین رکھنے والے تقریباً تمام مذاہب مسلم، کرسچیئن ، یہودی وغیرہ سب ہی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام ہم سب کے باپ ہیں اور اماں حوا ہماری ماں ہیں اور ہمارے یہ والدین ایک ممنوع پھل کھانے سے جنت سے نکال کر زمین پر بھیج دیئے گئے ایک خاص عرصے تک۔

قُرآن پاک میں سورہ بقرہ میں اللہ تعالی حضرت آدم کی پیدائش سے پہلے کا واقع سُناتا ہے”اور جب آپکے رب نے فرشتوں سے کہا کے وہ زمین پر اپنا خلیفہ بنائے گا تو فرشتے بولے کے تُو اُس کو خلیفہ بنائے گا جو زمین پر جھگڑا اور فساد کرے گا اور ہم تیری تسبیح کرتے ہیں اور تعریف کرتے ہیں” تب اللہ نے فرمایا ” جو میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے”۔

یہ بات ہم سب جانتے ہیں زمین پر آدم علیہ السلام کی پیدائش سے پہلے جنات، بنات ، تمات ، حنات وغیرہ رہتے تھے اور زمین پر فساد کرتے تھے، لیکن زمین پر آدم علیہ السلام کی پیدائش سے پہلے بھی کوئی آدم تھا Theology کے ماننے والوں میں یہ بحث کئی صدیوں سے جاری ہے۔

القسطلانی پندرویں صدی کے مشہور عالم ، مفسر، محدث مورخ ہیں اور اپنی کتاب المواھب الدنیا میں لکھتے ہیں”جب اللہ نے مخلوق کو پیدا کرنے کا ارادہ کیا تو اُس نے سب سے پہلے نُورمحمدﷺ کو پیدا کیا۔
ایک اور مشہور تاریخ دان المسعودی اپنی کتاب مارج الدھب میں حضرت علی علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں "اللہ نے جب اپنی مخلوق میں سے سب سے پہلے نُور محمدﷺ کو پیدا کیا تو اُس سے کہا "میں نے آپ کو اپنے نُور اور ہدایت کے لیے بطور امین منتخب کیا اور یہ زمین اور آسمان آپ ہی کے لیے تخلیق کیے جائیں گے جہاں اجر کے باغات اور سزا کے لیے جہنم کی آگ ہوگی۔
حضرت ابن عباس سے روایت ہے آپ ﷺ نے فرمایا "میں اُس وقت بھی پیغیمبر تھا جب آدم علیہ السلام کی تخلیق ابھی ابتدائی مراحل میں تھی۔(Tabarani, Al-Mu’jjam al-Kabir; Al Khasa’is al-Kubra, vol.1, p.4)

یہ روایات3 مختلف طبقہ فکر کی کتابوں سے منتخب کی گئی ہیں اور تینوں کا مفہوم ملتا جلتا ہے جو آدم علیہ السلام کی پیدائش سے پہلے مُحمد ﷺ کی پیدائش پر گواہی دیتی ہیں۔
تھیالوجی کے ماننے والوں کا کہنا ہے کہ آدم علیہ السلام کی پیدائش سے پہلے بھی اللہ نے زمین پر آدم کو پیدا کیا ، ہوسکتا ہے یہ بات آپ کے لیے نئی ہو اور بطور مسلمان آپ اس کی سند سے انکار دیں لیکن سلطان باہوجو 17ویں صدی میں سلسلہ قادریہ کے مشہور صوفی بزرگ گزرے ہیں اپنی ایک تصنیف میں فرماتے ہیں "Once God said to the Prophet "O Muhammad I created an Adam before I created your father Adam, whom I gave a life of thousand years. Then I created fifteen thousand Adams all of whom I gave a life of ten thousand years. After that I created your Adam”
(اللہ نے محمدﷺ سے فرمایا کہ آپ کے والد حضرت آدم کی پیدائش سے پہلے ہم نے ایک آدم کو پیدا کیا اور اُسے ایک ہزار سال کی زندگی دی، پھر ہم نے پندراں سو آدم پیدا کیے اور ان سب کو دس دس ہزار سال کی زندگی عطا کی اور پھر ہم نے آپ ﷺکے والد آدم کو پیدا کیا)
یہاں سلطان باہو کی اس تحریر کو شامل کرنے کا مقصد یہ ہے کہ تھیالوجی کی اس بحث سےکسی کے مذہبی عقائد کو ٹھیس نہ پہنچے اور انہیں موضوع کو سمجھنے میں کوفت نہ ہو۔
ہمارے والد آدم علیہ السلام سے پہلے آدم کو ماننے والوں اور نہ ماننے والوں کے درمیان یہ بحث ایک عرصہ دراز سے جاری ہے ، عام مسلمانوں میں یہ موضوع متنازعہ ہے اور عام طور پر مسلمان آدم علیہ السلام سےپہلے انسان کے وجود پر بات کرنے والے کو بدعتی کہتے ہیں لیکن صوفی ایزم کو ماننے والے اور شعیہ مسلمانوں میں اسماعیلی، امام شافی کے ماننے والے اور سائنس کے کُچھ شعبے اس موضوع پر کھل کر بات کرتے ہیں اور اپنے دلائل پیش کرتے ہیں۔

پاکستان میں پروفیسر احمد رفیق اسلامک اور صوفی سکالرہیں آپ اپنے اکثر لکچرز میں اس موضوع پر گفتگو کرتے ہیں اور آپ کا ماننا ہے کہ آدم سے پہلے زمین پر آدم کا وجود تھا، آپ اپنے علم میں مزید اضافہ کرنے کے لیے پروفیسر صاحب کے لیکچرز جو یوٹیوب پر موجود ہیں سُن سکتے ہیں اور مزید تحقیق کر سکتے ہیں، اور بےشک اللہ ہی بہتر جانتا ہے ۔