یہاں یوں یوں ہوتا ہے

یہاں یوں یوں ہوتا ہے

یہاں یوں یوں ہوتا ہے

یہ ایک سچا واقعہ ہے۔ میرا ایک عزیز جو سعودی عرب میں مقیم ہے نے مجھے ایک پلاٹ خریدنے کا کہا۔ماناوالہ میں بر لب نہر ایک تین کنال کا پلاٹ اس نے میری معرفت خرید لیا۔اور فرد ملکیت رقبہ حاصل کر لی۔ پلاٹ کافی عرصہ خالی پڑا رہا۔ ایک دن ایک سٹیٹ ایجنسیکا مالک میرے پاس آیا۔ اس نے مجھ سے استفسارکیا کہ آپ نے پلاٹ بیچ دیا ہے۔

جب اسے پتہ چلا کہ ہم نے وہ پلاٹ نہیں بیچا تو اس نے بتایا کہ میرے پاس عبدالحمید نامی شخص جو ماناوالہ کا رہائشیہے آپ کے پلاٹ کی  اپنے نام رجسٹری لیکر آیا تھا۔ وہ پلاٹ فروخت کر رہا ہے۔ اس کی مالیحالت اور پلاٹ کی حیثیت دیکھ کر مجھے شک گزرا اس لۓ تصدیق کے لۓ آیا ہوں۔ آپ کا پلاٹفروخت ہو چکا ہے اور اس کی رجسٹری اب عبدالحمید کے نام ہو چکی ہے۔

میں نے اپنے عزیز کو تمام واقعات سے آگاہ کیا۔ اور دوسرے دن وہ سفارتخانہ پاکستان سے اپنے

ساتھ ہونے والی زیادتی اور اس کے ازالہ کے لۓ ڈپٹی کمشنر فیصل آباد کے نام چھٹی لیکرپاکستان آ گیا۔ ڈپٹی کمشنر نے سب رجسٹرار کو بلایا اور فوری طور پر شکائت کا ازالہ کرنےکا حکم جاری کر دیا۔ سب رجسٹرار نے اسی وقت ریکارڈ منگوایا اور جس شخص نے اصلمالک کے نام جعلی شناختی کارڈ  تیار کر کے پلاٹ بیچا تھا خود میرے عزیز کے ہمراہ جعلیشناختی کارڈ پر درج ایڈریس پر پہنچے۔ جہاں معلوم ہؤا کہ اس نام کا کوئ شخص کبھی یہاںمقیم نہیں رہا۔ آصلیت جان کر سب رجسٹرار نے تھانہ کوتوالی میں پرچہ درج کروایا اور ساتھ ہیتحصیلدار کو پلاٹ مزکورہ پر تا فیصلہ مزید کاروائی سے روک دیا۔

پولیس نے عبدالحمید جس کے نام رجسٹری تھی چھاپہ مارا وہ فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ اگلے دن اس نے عدالت سے عبوری ضمانت حاصل کر لی۔ تاریخ پر تاریخ پڑتی رہی اور بلآخر قریبایک ماہ بعد مقدمہ کی ہر پیشی پر مکمل پیروی کی وجہ سے اس کی ضمانت منسوخ اور گرفتاریعمل میں آسکی۔ عبدالحمید کی نشاندہی پر گروہ کے دیگر ارکان اسی عدالتی عمل سے گزر کر گرفتار ہوۓ۔ اور یوں کیس کا چالان مکمل ہونے  اور عدالت میں پیش ہونے تک ایک سال کا عرصہ لگ گیا۔متعدد بار ملزمان کی درخواست ضمانت کی پیروی کے لۓ ہائیکورٹ جانا پڑا اور پیسہ پانی کیطرح خرچ ہوتا چلا گیا۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق قریب دس لاکھ روپیہ مقدمہ کو عدالت تکپہنچانے تک خرچ ہو چکاتھا۔ وقت کا جو۔ ضیاع ہوا اگر وہ بھی شامل کر لیں تو لگ بھگپچیس لاکھ کا ٹیکہ مدعی کو لگ چکا تھا۔

عدالتی عمل اپنے روائتی انداز میں شروع ہوا۔ گواہان کی طلبی کا عمل شروع ہوا۔ میں

خود تین بار گواہی کے لۓ عدالت گیا مگر کبھی جج صاحب کی رخصت کبھی ملزمان میںسے کسی ایک کی غیر حاضری کی وجہ سے تاریخ پر تاریخ پڑتی رہی۔ مدعی مقدمہ کوسعودی عرب میں کاروبار میں نقصانات کی وجہ سے فوری طور پر واپس جانا پڑا۔ قریبدو ماہ بعد پتہ  چلا کہ گواہان کی عدم حاضری کی وجہ سے عدالت نےملزمان کو بری کر دیا ہے ۔ اللہ اللہ خیر صلہ۔

ایسے مقدمات جن میں واضح طور پر دستاویزی ثبوت موجود ہوتے ہیں ملزمان کا بری ہو جاناایک المیہ ہے۔ جب دستاویزی ثبوت موجود ہیں تو عدالت خود اپنے طور پر مقدمہ کو آگےبڑھا کر ملزمان کو کیوں کیفرکردار تک نہیں پہنچاتی۔ یہی یہاں قانون کا کمال ہے اسی لۓ یہاںیوں یوں ہوتا ہے۔ ۔ ہے ناں کمال کی بات۔ اب سو جاؤ اور پانچ سال بعد میرے سمیت  ووٹ ڈال کران ممبران اسمبلی کو منتخب کر لینا جو آپکو ایک بار پھر یوں یوں کریںپاناما انکشافات میں بھی یہی یوں یوں ہی ہو گا۔